حیات شمس

by Other Authors

Page 340 of 748

حیات شمس — Page 340

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 324 ہے لیکن پھر بھی اسے کبھی حکومت نصیب نہیں ہوئی۔اس سے قرآن مجید کی پیشگوئی کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔دوسرے باوجود یکہ یہ قوم ہر زمانہ میں مصائب کا نشانہ بنتی رہی اور جلا وطنی اور کئی قسم کی تکالیف میں مبتلا ہوئی لیکن پھر بھی مٹی نہیں اور اس کی وجہ جیسا کہ میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا۔فَجَعَلْنَاهَا نَكَالاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ (البقرة :67) کہ اس قوم کے ذلیل اور مسکین ہونے اور دوسری حکومت کے زیر دست رہنے کو ہم نے آئندہ آنے والی قوموں کیلئے بھی باعث عبرت بنایا ہے۔اس قوم کو عبرت بنانے کے یہ معنی ہیں کہ کوئی اور قوم بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے والی تھی۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ یہود کے قدم بقدم چلیں گے۔سید عبداللہ صاحب نے بعض اور آیات کی بھی تفسیر دریافت کی اور جاتے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے ان تفسیروں کے سننے سے بہت خوشی ہوئی ہے اب میں لنڈن سے باہر جارہا ہوں واپس آکر پھر آپ سے ملنے کیلئے آؤں گا۔(۲) ایک انگریز Mr Bone برائٹن سے تشریف لائے۔پہلے مصر وغیرہ میں رہ چکے ہوئے ہیں۔انہیں مطالعہ کیلئے کتا بیں دی گئیں۔(۳) ڈاکٹر یہودا پی ایچ ڈی جو مستشرق ہیں اور یہودی عالم ہیں جرمنی اور لنڈن کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر رہ چکے ہیں ان کے مکان پر گیا۔ان سے سیرۃ النبی کے جلسہ پر تقریر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔لیکن ان کا اسی روز ایک دوسری جگہ لیکچر تھا اس لئے انہوں نے معذوری کا اظہار کیا۔پھر احمدیت کے متعلق انہیں بعض باتیں بتا ئیں۔انکے پاس شیخ محی الدین ابن العربی اور سید عبدالغنی نابلسی وغیرہ علماء کی خود نوشت تحریریں تھیں۔وہ انہوں نے دکھا ئیں۔(۴) ایڈیٹر South Westerm Star کو چائے پر بلایا ہندوستان کی موجودہ سیاسی حالت کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب آپ کے ہاں کوئی میٹنگ ہو تو ہمیں اطلاع دے دیا کریں ہم اسے اچھی طرح شائع کیا کریں گے۔(۵) ایک ترکی مسٹر داؤ د بیگ مع اپنی بیوی کے آئے جو آسٹرین اور کیتھولک تھیں اور اسلام لانا چاہتی تھیں۔میں نے کہا اسلام لانے سے پہلے ضروری ہے کہ وہ اسلام کو کماحقہ سمجھ لیں انہیں وہ کتاب (اسلام) مطالعہ کیلئے دے دی گئی۔(۶) مسٹر آرنلڈ یارکشائر سے آئے ان سے اصول اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی۔احمدیت اور