حیات شمس

by Other Authors

Page 282 of 748

حیات شمس — Page 282

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 266 انگلستان میں خدمات بجالاتے رہے۔قادیان سے مبلغین سلسلہ کا قافلہ روانہ ہو ا کثیر احباب نے انہیں الوداع کہا۔اس دور میں جب مبلغین بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے روانہ ہوتے تو الوداعی تقریب کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا اور احباب قادیان جوق در جوق ان خدام اسلام کو الوداع کرنے کیلئے جم غفیر کی صورت میں اپنی عاجزانہ دعاؤں سے انہیں رخصت کرتے۔مبلغین کو پھولوں کی مالائیں پہنائی جاتیں اور احباب کرام کے ساتھ ان کے گروپ فوٹو کھینچے جاتے۔حضرت مولانائٹس صاحب جب فروری 1936ء میں دیگر مبلغین کرام کے ہمراہ دتی ریلوے اسٹیشن پہنچے تو احباب نے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔اس موقعہ پر حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی موجود تھے۔اس زمانہ میں بحری جہاز کا سفر ہی مناسب ہوتا تھا کیونکہ فضائی سفر ابھی عام نہیں ہوئے تھے۔کئی ہفتوں کا صبر آزما سفر ہوتا تھا۔لندن پہنچتے ہی آپ کی بھر پور اور مصروف ترین زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔آپ کی کاوشوں سے بیسیوں انگریز بھی آغوش احمدیت میں آئے۔یہ سراسر اللہ کا فضل و احسان تھا کہ آپ نے مغرب سے دین کے طلوع شمس کی ایک جھلک پیش کی۔یہ بجاطور پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ کا یہ دور تاریخ ساز دور ہے اور اس دور کی تاریخ محفوظ کرنے کیلئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔اس عشرہ میں آپ کی خدمات دین حقہ و خدمات سلسلہ عالیہ احمد یہ کے بعض امور پیش ہیں جسے سال بہ سال پیش کیا جا رہا ہے۔آپ جب لندن تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے دوران سفر بحری جہاز میں ایک عجیب نظارہ دیکھا جسے آپ کے ہمعصر اور سلسلہ احمدیہ کے نامور مبلغ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مبشریوں تحریر فرماتے ہیں : اہل اللہ 1936ء میں جب میں پہلی بار گولڈ کوسٹ ( انا ) آرہا تھا تو ہم ایک جاپانی جہاز میں آرہے تھے اور مولانا جلال الدین صاحب شمس بھی لنڈن تشریف لا رہے تھے۔ہم دونوں ایک کمرہ میں تھے اوپر کے تختے پر ان کا بستر تھا اور نیچے کے تختے پر میرا بستر تھا۔وہ حج کے ایام تھے اور جہاز عرب کے سمندر سے گزر رہا تھا۔ہم نے جاپانیوں سے دریافت کیا کہ وہ ہمیں مکہ کی سمت بتائیں لیکن انہوں نے عذر کیا کہ اگر آپ برطانوی جہاز میں ہوتے تو وہ آپ کو بتا دیتے لیکن ہمیں معلوم نہیں۔لیکن اسی رات جب ہم سوئے تو ایک بجے کے قریب مولا نائٹس صاحب