حیات شمس

by Other Authors

Page 283 of 748

حیات شمس — Page 283

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس نے مجھے اٹھایا اور انہوں نے ایک سمت کی طرف اشارہ کر کے مجھے بتایا کہ وہاں سے جانب مشرق انہوں نے خواب میں ایک جہاز جاتے ہوئے دیکھا ہے اور اس کے پیچھے لکھا ہے مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِناً چنانچہ ہم دونوں اٹھے اور اٹھ کر تہجد ادا کی اور پھر ہم سو گئے۔اس کے ایک گھنٹہ کے قریب مجھے آواز آئی: الْوُضُوْءُ لِشَعَائِرِ اللَّهِ 267 میں نے شمس صاحب کو اٹھایا اور دریافت کیا کہ کیا وہ عربی بول رہے ہیں۔انہوں نے فرمایا نہیں اس کے بعد وہ بھی سوگئے اور میں بھی سو گیا اور تھوڑے عرصہ کے بعد میں نے محسوس کیا کہ گویا میں ایک بڑے بوجھل پہاڑ کے نیچے پڑا ہوا ہوں اور مجھ سے ہلا نہیں جاتا تھا اور میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور بہت سے عربی کلمات میری زبان پر جاری ہوئے۔جب اسی حالت میں میں نے اپنا منہ بند کرنا چاہا تو نہایت ہی قوت کے ساتھ میرے ہاتھ کو پیچھے ہٹایا گیا اور دیر تک بہت سے عربی فقرات میرے منہ سے جاری رہے۔( آپ کی نوٹ بک سے ، بحوالہ تحریک جدید، جولائی 2006، صفحہ 13) انگلستان میں داخل ہوتے ہی مولانا شمس صاحب تبلیغی میدان میں مصروف عمل ہو گئے اور جب تک آپ کا وہاں قیام رہ با قاعدہ اور مسلسل اپنی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹس مرکز احمدیت قادیان بھجواتے رہے۔تبلیغی مشکلات یہاں تبلیغ کا کام دوسرے ممالک سے بالکل جدا رنگ کا ہے۔مذہبی گفتگو کیلئے وقت نکالنا یہاں کے لوگوں کیلئے نہایت شاق ہے۔ریلوں، لاریوں ،رام وغیرہ میں آپ دیکھیں گے کہ بیسیوں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں مگر کوئی کسی سے کلام نہیں کرتا۔یا تو خاموش بیٹھے ہیں یا اخبار پڑھ رہے ہیں۔گویا ایک شہر خاموشاں کا نظارہ ہے راہ چلتے ہوئے بھی کسی سے بات نہیں ہوتی سوائے اس کے جو خاص طور پر کسی سے وقت مقرر کر کے اس کی ملاقات کی جائے اور کوئی صورت نہیں۔باقی رہیں مذہبی سوسائٹیاں وہ در حقیقت برائے نام ہوتی ہیں۔مذکورہ بالاتھیوسوفیکل سوسائٹی جس کا پروگرام با قاعدہ چھپ کر شائع ہوتا ہے اور لنڈن شہر میں ہے اس لیکچر میں جس کا ذکر ابھی کر چکا ہوں[ 4 مئی 1936ء کا مولا نا عبدالرحیم درد صاحب کا لیکچر کل آٹھ عورتیں اور ایک مرد سنے کیلئے آئے تھے۔اسی طرح دوران