حیات شمس

by Other Authors

Page 93 of 748

حیات شمس — Page 93

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 93 سے قادیان میں جو سب سے پہلی باقاعدہ تبلیغی کلاس کھولی گئی اس کے آپ پہلے اور ا کیلئے استاد مقرر ہوئے۔حضرت حافظ صاحب کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ جماعت احمدیہ کے تمام مبلغ بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ کے ہی چشمہ علم سے سیراب ہوئے ہیں۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت مولانا غلام احمد صاحب آف بدوملہی آپ کے ہی شاگردوں میں سے ہیں۔1919 ء میں جماعت کی وقت کے پیش نظر اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قادیان اور بیرونجات کے احباب کے مشورہ سے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جدید انتظام قائم کیا۔آپ نے مرکز میں نظارتیں قائم کیں اور بعض اور شعبہ جات قائم کیے تو حضرت حافظ روشن علی صاحب کو حضور نے قاضی کے فرائض سپر د کیے۔الفضل قادیان 4 جنوری 1919ء) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ 1924ء میں جب انگلستان تشریف لے گئے تو جن اصحاب کو حضور اپنے ساتھ لے گئے ان میں سے ایک حضرت حافظ صاحب بھی تھے۔یورپ کے سفر کے دوران آپ کی علمیت کا لحاظ رکھتے ہوئے حضور نے آپ کو ہمیشہ اپنے دائیں طرف چلنے کا ارشاد فرمایا ہوا تھا۔پیرس میں تبلیغی مہموں کے لیے سوچ بچار کرنے والی کمیٹی کا آپ کو صدر نامزدفرمایا۔حضور کی موجودگی میں آپ نے کئی جلسوں کی صدارت فرمائی۔حضرت حافظ صاحب کئی سالوں سے ذیا بیطس کے مرض میں مبتلا تھے۔وفات سے کوئی دو سال قبل پیشاب میں الیومن خارج ہونے لگ گئی۔بیماری باوجود علاج کے بڑھتی گئی اور 1928ء کے دسمبر میں آپ کی طبیعت قدرے ٹھیک تھی اور آپ نے جلسہ سالانہ میں بطور سامع کے شرکت فرمائی۔29 دسمبر کو آپ پر فالج کا حملہ دائیں طرف ہو الیکن علاج سے کچھ افاقہ ہوا۔جون 1929ء میں بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ نے 23 جون 1929ء کو وفات پائی۔آپ کے ذکر خیر میں حضرت مولا نائٹس صاحب بیان کرتے ہیں : یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد مجھے آپ کی صحبت میں چار پانچ سال متواتر رہنا پڑا۔تقریباً تین سال تک با قاعدہ آپ سے مبلغین کلاس میں تعلیم پائی۔آپ نے جس محبت اور شفقت سے میری تربیت فرمائی اور اپنے ساتھ تبلیغی دوروں پر لے جا کر مناظرات کی مشق کرائی وہ میں بھول نہیں سکتا۔استادوں میں آپ کی نظیر شاذ و نادر