حیات شمس

by Other Authors

Page 89 of 748

حیات شمس — Page 89

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 89 69 نکلا ہے عبادات شاقہ بجالانے والے شہد جیسی ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اور جیسے شہد فيه شفاء للنَّاس کا مصداق ہے اسی طرح شہید لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں جن کی صحبت سے لوگ امراض سے نجات پاتے ہیں۔پھر شہید اس درجہ اور مقام کا بھی نام ہے جہاں بندہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے۔چنانچہ آپ کی وفات کے بعد جب میں نے خطبہ جمعہ میں آپ کے مناقب کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا مرتبہ شہید کا بتایا تو اس کے بعد مڈھ رانجھا کے سیکرٹری مال مکرم راجہ بشیر الدین احمد صاحب نے لکھا کہ جس دن حضرت میاں صاحب نے وفات پائی اسی رات میں نے خواب میں ایک شخص کی آواز سنی جو کہتا ہے کہ :۔دو حضرت علی شہید ہو گئے اور وہ شخص نظر نہیں آیا“ صبح ریڈیو پر خبریں سننے سے آپ کی وفات کا علم ہوا۔اسی طرح عزیز صباح الدین نے ایک خواب دیکھا جس میں ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے کہا کہ :۔وو اب مصنوعی سانس دینے کی ضرورت نہیں۔وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئے“ ان خوابوں سے بھی ظاہر ہے کہ آپ کو شہادت کا مقام حاصل ہے اور آپ ہمیشہ کیلئے زندہ ہیں اور حقیقت ہے۔ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق مثبت پر جریدہ عالم دوام شاں تذکرہ مجموعہ الہامات و کشوف ، بار چہارم 2004 صفحہ 97] مرحوم و مغفور سے زمانہ طالبعلمی سے خاکسار کو ملنے کا شرف حاصل ہے۔آپ مدرسہ احمدیہ میں بطور پرنسپل بھی رہے اور ہمارے استاد بھی اور پھر تبلیغ کے زمانہ میں بکثرت ملاقاتیں ہوئیں اور ربوہ میں تو بہت ہی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔آپ عجب اور ریاء سے بالکل خالی تھے۔آپ حد درجہ متواضع اور ملنسار تھے۔آپ کی خاکساری اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی سے خشیت آپ کی متعددتحریروں سے ظاہر و باہر ہے۔باوجود یکہ رات دن آپ سلسلہ کے کام میں مشغول رہتے پھر بھی آپ یہی سمجھتے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔آپ نے 1962ء کے ماہ رمضان میں اپنی خرابی صحت کا ذکر کر کے لکھا کہ میرے لئے ان مبارک ایام میں از راہ مہربانی دعا فرمائیں کہ: