حیات شمس — Page 74
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 74 جلسوں میں بھی شریک ہوئے۔اس عرصہ میں آپ نے کئی یاد گا ر مباحثات بھی کئے جن میں سے بعض کا ریکارڈ ملتا ہے اور بعض دستیاب نہ ہو سکے۔لوہاری میں مباحثہ مثلاً لوہاری میں ایک مباحثہ ہوا۔اس مناظرہ کے بارہ میں حضرت مولوی محمد حسین صاحب المعروف سبز پگڑی والے اپنی خود نوشت سوانح میں بیان فرماتے ہیں: لوہاری گاؤں میں ہمارے ایک مبلغ مولوی عبد الخالق صاحب بڑی محنت سے کام کر رہے تھے۔وہ ان دنوں احمد نگر ضلع جھنگ کے صدر ہیں۔انہوں نے مجھ سے مشورہ کئے بغیر دیو بندیوں سے مناظرہ مقرر کر لیا۔مقررہ تاریخ پر کافی مولوی صاحبان لوہاری پہنچ گئے اور ہماری طرف سے مولوی جلال الدین صاحب شمس ، مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی سیٹھ خیر الدین صاحب آف لکھنو ، قاضی عبد الرحیم صاحب اور اسلم صاحب آف فرخ آباد۔غرضیکہ کافی احباب پہنچ گئے۔مجھے مناظرہ کی شرائط طے کرنے کیلئے بھیجا گیا۔میری واپسی پر مناظرہ کا آغاز ہوا۔حیات و ممات مسیح پر دیوبندیوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ ان قادیانیوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے اور کسی طریق سے ان کا علاج نہیں ہوسکتا۔نیز گاؤں کے لوگ کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ اگر علم کی بحث کرنا ہے تو مولویوں سے کرو اور اگر کسی سرے نے ڈنڈا چلانا ہے تو ہم پر چلائے۔غرضیکہ مناظرہ اسی شور میں بخیر و خوبی ختم ہو گیا“ ( میری یادیں، باراول، ناشر رانا محمد اقبال 1994 ءصفحہ 65-66) حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل ( مدیر یویو آف ریلیچز اردو ) حضرت فاضل شمس سیکھوانی کی انسداد وارتداد ملکانہ میں خدمات و مصروفیات کی بابت تحریر کرتے ہیں : وو برادر عزیز القدر خواجہ شمس فاضل سیکھوانی انسداد و ارتداد ملکانہ میں حسب الارشاد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مصروف ہیں۔وہاں سے آپ دو چار روز کیلئے قادیان دار الامان تشریف لائے تو مجھ سے ذکر کیا مولوی ثناء اللہ کے رسالہ ” شہادات مرزا کا ایک دوست نے ریل میں ذکر کیا تھا اگر آپ کے پاس ہو تو مجھے دیدیں میں اس کا جواب لکھوں گا۔چنانچہ برادر موصوف نے 31 جنوری 1924ء کو مجھے مسودہ پہنچا دیا۔جن لوگوں کو