حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 82

AV عورتوں سے اتارا ہے۔اس نے ایسے بدتمیز بچے پیدا کردیئے جنہوں نے اس ظلم کو جاری رکھا جو ان کے باپ نے ماں سے روا رکھا تھا۔اسی طرح اس کے برعکس بھی صورت حال ہوتی ہے مائیں بے راہ رو ہو جاتی ہیں اور خاوندان کو روکنے سے عاجز آجاتے ہیں کیونکہ شروع ہی سے بعض عوزر میں اس رنگ میں اپنے مردوں سے تعلقات قائم کرتی ہیں کہ گویا وہ ہر معاشرہ سے آئی ہیں وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں وہ زیادہ باتوں کو بجھتی ہیں۔مرد میں نقائص ہیں اس کے با وجود انہوں نے قبول کر لیا۔مرد کا خاندان نسبتا ملکا ہے اس کے باوجود وہ شہزادی اُن کے گھر گئی۔وہ یہ باتیں منہ سے کہیں نہ کہیں ان کی طرز عمل بتا رہی ہوتی ہے کہ میں اونچی ہوں تم نیچے ہو اور وہ نیچے پھر ہمیشہ کے لئے واقعتہ نیچے ہو جاتے ہیں بڑی باتوں کو گھرمیں دیکھتے ہیں، خلاف اسلام باتوں کو رائج دیکھتے ہیں اور ان کو جرات نہیں ہوتی کہ ان کو روک سکیں۔اب اندازہ کیجئے کہ ایسی اولاد جو ایسے گھرمیں پل رہی ہو وہ کیا سیکھے گی اور کیا سوچ کر بڑی ہوگی رفتہ رفتہ اس اولاد کے دل سے اس ماں کی عزت بھی اٹھ جاتی ہے۔باپ کہے یا نہ کہے وہ بڑے ہو کر اس ماں کے خلاف گواہیاں دیتے ہیں اور دل سے جانتے ہیں کہ اس ماں نے نہ باپ سے صحیح سلوک کیا نہ حقوق ادا کئے نہ ہماری صحیح تربیت کی لیکن یہ سب کچھ جاننے کے با وجود ده بداثر کو بہتر اثر کی نسبت جلدی قبول کرتے ہیں۔فطرت انسانی کا ایک اہم راز یں وقت کی رعایت سے اس خطاب کو نسبتاً چھوٹا کر وں گا لیکن یہ بات میں آپ کو سمجھانی چاہتا ہوں کہ ایک راز کو آپ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں یہ بات خوب یا درکھیں کہ جس طرح پانی نچلی سطح کی طرف بہتا ہے۔اسی طرح فطرت انسانی میں یہ بات داخل ہے کہ مشکل چیز کو قبول کرنے کی بجائے اگر آسان چیز میسر ہو تو اسے قبول کرتی ہے۔پس ماں اور باپ کے اخلاق میں سے جس کا اخلاق بد تر مو بالعموم وہی اولاد