حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 48
نتیں کرو اور جو کچھ کمائی ہے وہ ہمارے قدموں میں ڈال دو۔یہ تمام غیر اسلامی ہمیں ہیں اور یہ ہ میں مغرب میں مفقود ہیں۔مغرب میں اگر گھر ٹوٹ رہے ہیں تو نفرتوں کی بناء پر نہیں ٹوٹ رہے وہاں گھر اس لئے ٹوٹتے ہیں کہ مادی لذتوں کی طرف رحجان بڑھ رہا ہے اور انفرادیت نمو پا رہی ہے یعنی وہ پہلے سے بڑھ کر نمایاں ہوتی چلی جارہی ہے اور دنیا کی لذتوں کی راہ میں یہ انفرادیت اس طرح رشتوں کی تعمیر میں حائل ہو جاتی ہے کہ اگر مغرب میں ایک شخص شادی کرتا ہے تو وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ بیوی کی ماں یا بیوی یہ پسند نہیں کرتی کہ خاوند کی ماں ، ان کے گھروں پر کسی قسیم کا بھی بوجھ نہیں۔اس سے ان کی آزادی پر ان کی لذت یابی پر فرق پڑتا ہے۔چنانچہ آزادی کا جو یہ رحجان ہے یہ سب سے پہلے گھر کو توڑ کر محض میاں بیوی میں تبدیل کر دیتا ہے۔باقی رشتہ داریں سے تعلق محض اس حد تک استوار رہتا ہے جس حد تک دنیا کی رسموں میں یا لبعض تقریبوں کے موقعوں پر جس طرح دوستوں کو بلایا ہی جاتا ہے ایسے موقعوں پر خاندان کے دوسرے افراد بھی حقہ لے لیتے ہیں لیکن چونکہ تقاضے نہیں ہیں اس لئے مایوسیاں بھی نہیں ہیں۔رفتہ رفتہ خود غرضی کے اس معاشرے نے پی شکل اختیار کر لی کہ بوڑھی مائیں جومرد کی محتاج ہیں وہ بھی بیچاری تنہا پڑھی ہوئی اپنی زندگی کے باقی دن کاشتی ہیں اور موت کا انتظار کرتی ہیں۔بوڑھے باپ کو دیکھنے والا کوئی نہیں چنانچہ سارا معاشرہ اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایسے لوگوں کیلئے old homes البوڑھوں کے گھر بنتے ہیں دیکھ بھال کیلئے دوسرے سان فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہاں تک کہ یہ معاشرہ سوسائٹی پر اتنازیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے کہ پھر مزید تقاضے پورے نہیں ہو سکتے اور ایک عدم اطمینان اور بے چینی کا معاشرہ پیدا ہوتا ہے جو ان چیزوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور دن بدن سارا معاشرہ بے چین ہوتا چلا جاتا ہے۔انگلستان میں آپ دیکھ لیجیئے یہی صورت ہے مگر یاد رکھیں کہ ان برائیوں کے نتیجہ میں نفرتیں نہیں پیدا ہوتیں۔دکھا وا ، سہارالینی شرقی معاشرہ مجھ کہنا چاہئے مشرقی معاشرے کی خرابیاں