حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 34
۳۴ ونُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ان کا نور جو صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہا کرتا تسعى بين آئيد فهو وه أن کے آگے آگے بھاگتا ہے اور دنیا کو بھی روشن کرتا چلا جاتا ہے۔ماؤں کو اس لئے ضرورت ہے کہ ماؤں کے قبضے میں بچے ہوتے ہیں۔آپ اگر بچپن میں خدا کی محبت اُن کے دلوں میں پیدا کر سکیں تو سب سے بڑا احسان اپنی اولاد پر آپ کر سکتی ہیں اور خدا کی محبت پیدا کرنے کے لئے آپ کو خدا کی باتیں کرنی ہوں گی۔خدا کی باتیں کرتے وقت اگر آپ کے دل پر اثر نہ ہوا۔اگر آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ ہے، اگر آپ کا دل موم نہ ہوا تو یہ خیال کرنا کہ بیچے اس سے متاثر ہو جائیں گے، یہ جھوٹی کہانی ہے اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔ایسی ماؤں کے بچے خدا سے محبت کیا کرتے ہیں کہ جب وہ خدا کا ذکر کرتی ہیں تو ان کے دل کھیل کر آنسو بن کر بہنے لگتے ہیں۔ان کے چہروں کے آثار بدل جاتے ہیں۔بچے یہ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ اس ماں کو کیا ہو گیا ہے ، کس بات کی اداسی ہے، کسی جذبے نے اس پر قبضہ کر لیا ہے یہ وہ تاثر ہے جو بچے کے اندر ایک پاک اور عظیم تبدیلی پیدا کر دیا کرتا ہے۔یہ انقلاب کی رح ہے اور انقلاب کی جان ہے۔ایسی مائیں بننے کے لئے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا سے مدد مانگتے ہوئے اس کے حسن کی تلاش کرنی ہوگی۔یہاں تک کہ وہ حسن آپ پر حلوہ افروز ہوا اور آپ کے دلوں میں ایسی محبت بھر دے کہ آپ کا وجود پگھل جائے اور کھلنے کے بعد ایک نئے وجود میں ڈھالا جائے۔تربیت اولاد کا بہترین وقت پس آج کے خطاب کے لئے میں نے صرف یہی مضمون چنا تھا۔ہمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ میں بھتا ہوں کہ ہزار باتوں کی ایک بات یہ ہے، اس کو آپ مضبوطی سے تمام ہیں۔خدا سے محبت کرنے کے تو بے شمار طریق ہیں میں مختلف خطبات میں اُن کا ذکر بھی کرتا رہتا