حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 33
٣٣ کے حُسن کے تعلق میں بیان فرمایا۔جب آپنے فرمایا۔سے - سه اگر خواہی دلیلے عاشقش باش با محمد است بریان محمد یعنی تم دلیل پوچھ سے ہو۔محمد کی صداقت کی دلیل یہ ہے کہ تم اس کے عاشق ہو جاؤ مجھ صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی اپنی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ وہ حسین ہے اور حسینوں کی صداقت کی دلیل نہیں مانگی جایا کرتی جبینوں کے اُس جذبہ اور اس قوت کی دلیل نہیں مانگی جایا کرتی جو انسان کو خود بخو د مغلوب کر دیا کرتا ہے جن کو دیکھئے پھر آپ کا اختیار نہیں ہے گا۔پھر آپ اس کے پیچھے چلیں گے اور یہ انسانی فطرت ہے۔ایسی گہری کشش خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں حُسن کے ساتھ رکھ دی ہے کہ پھر بندہ بے اختیار ہو جاتا ہے۔تو میں آپ کو یہ راز سمجھاتا ہوں کہ آپ خدا تعالی سے محبت ان معنوں میں مانگیں کہ اے خدا ! انہیں اپنا حسن دکھایا اپنے حسن کے جلوے دکھا، ہمیں بے اختیار کردے ، ہم ایسا تجھے دیکھیں کہ پاگل ہو جائیں ہمیں دنیا و مافیہا کی ہوش نہ رہے۔ہم تجھے چاہیں اور تیرے مقابل پر پھر کسی اور کو نہ چا سکیں۔احمدی خواتین کا اپنی اولاد پر سب سے بڑا احسان یہ دُعا ہے جس کے نتیجہمیں اللہ تعالی آپ کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کردیگا اور جب تک آپ کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا نہ ہوں باہر کی دنیا میںپاک تبدیلی نہیں پیدا کی جاسکتی ہیں پیدا کی جاسکتی اور نہیں پیدا کی جاسکتی 11 یہ ایک ایسا قطعی اصول ہے جس کو دنیا میں کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔آپ اپنے اندر روشنیاں پیدا کریں۔اپنی تاریکیوں کو روشنی میں تبدیل کر دیں اور ایسے جلوؤں سے بھر دیں کہ وہ آپ کے باہر دکھائی دینے لگیں اور از خود آپ کے دل کا نور یا سر جلوہ گر ہو۔چنانچہ قرآن کریم اس مضمون کو اسی رنگ میں بیان فرماتا ہے۔