حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 153
۱۵۳ سے جو ان کے بس میں آئے بات کرتی ہیں اوراگر خاوند کی موجودگی میں نہ کر سکیں تو الیسی غیر مطمن عورتیں ہمیشہ اولاد کے ان بھرتی ہیں اور باپ کے خلاف کرتی ہیں تو جہنم کا لفظ اس لئے میں نے استعمال کیا ہے کہ نفسیاتی طور پر اگر ماں اور باپ میں اختلاف ہوں تو اولاد اچھی تربیت حاصل نہیں کرسکتی خصوصیات کے ساتھ اگر مرد باہر کام پر چلا جائے اور وہ ظالم ہو یا نہ ہو۔غالباً یہی ہوتا ہے کہ مرد زیادتی کرتا ہے تو عورت میں ایسی بگڑتی ہیں بہر حال جو بھی صورت ہو۔اگر بیوی کی یہ عادت ہو کہ خاوند کے جانے کے بعد اپنے بچوں سے خاوند کے کھڑے روئے اور یہ کہے کہ تمہارے بانے مجھ پر یہ ظلم کئے اور یہ حال ہوگیا ہے، میں تو دن رات جیتی رہتی ہوں، مرتی رہتی ہوں اور دیکھو وہ میرا خیال نہیں کرتا، وہ اپنے اوپر بچوں کو رحم دلاتی ہے۔نتیجہ ایسے بچوں میں مرد کے خلاف بغاوت پیدا ہو جاتی ہے۔باپ کے رشتے۔کے خلاف بغاوت پیدا ہو جاتی ہے اور نفسیاتی الجھنیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ایسے بچے باغیانہ ذہین لے کر اُٹھتے ہیں اور اکثر جاعت سے تعلق توڑنے والے بچے ایسی ماؤں کے ہوتے ہیں پھرایسی مائیں بھی میںنے لکھی ہیں کہ باپ اگر مخلص ہوا ور چندے دیتا ہو اور ماؤس کے اندر خدمت دین کی لگن نہ ہو تو وہ اپنے بچوں کے کان بھرتی ہیں، تو جنت پیدا کر نا صرف ماؤں کا کام نہیں ہے، ایک پورے معاشرے میں جس طرح کی ماں بن رہی ہے اس کے اثر بھی ماں پر پڑتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ مردوں کو اس لحاظ سے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیئے۔جو قربانی کرنی ہے اس قربانی میں بھی اپنی بیویوں کو اپنے بچوں اور بچوں کو شامل کرنا چاہیے اور اپنے رویے میں نمی پیدا کرنی چاہیئے تا کہ عورت میں مردوں سے سکون حاصل کرنے کی کوشش کریں اور مرد عورتوں سے سکون حاصل کریں لیکن قرآن کریم نے زیادہ ترعورتوں کو سکون کا باعث قرار دیا ہے اور اس کو بھی آپ کو خوب سمجھنا چاہیے کہ کیوں ایسا ہوا ہے۔سکون کے لئے عورت کی طرف جھکنے کا حکم خدا تعال مردوں کو