حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 154
۱۵۴ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تم میں سے ہی تمہاری جنس میں سے ہی ایک نازک صنف کو پیدا کیا ہے۔لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا تا کہ تم سکون کی خاطر اس کی طرف تجھکو۔اس میں مرد اور عورت کے تعلقات کو بہتر بنانے کا بہت بڑا راز ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تسكنوا اليها تاکہ تم عورت کی طرف سکون کی تلاش میں مجھکو میں کا مطلب یہ ہے کہ ایسامرد بد تمیز ہو ہی نہیں سکتا۔جس کو کسی سے سکون کی تلاش ہو وہ اس سے بد اخلاقی سے پیش نہیں آسکتا اور سکوت اس کو بھی ملے گا اگر وہ اپنی عورت کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہو گا تو معاش کو جنت بنانے کے لئے ایک چھوٹے سے فقرے میں ایک بہت ہی گہری راز کی بات نہیں سمجھادی گئی کہ مرد وہ مرد جو ہمیشہ عورت سے سکون کے متلاشی رہیں گے اور جانتے ہوں گے کہ میں سکون مجھے اپنے گھر میں مل سکتا ہے باہر میسر نہیں آسکتا ، ان کو واقعتہ عورت سے سکون ملے گا، اور ایسی عورتوں کا رحجان ان کے متعلق ہمیشہ اچھا ہو گا اور اگر وسکون کے لئے باہر جائیں گے تو ایسا گھر جہنم بن جائے گا۔آج کے معاشرے کے تجریہ کے وقت یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ وہی گھر بگڑتے ہیں، وہی گھر جہنم بنتے ہیں جن کے مرد اپنی ہیولوں سے سکون تلاش کرنے کی بجائے گھر سے باہر سکون ڈھونڈتے نہیں۔ایسے گھر لا ما بر باد ہو جایا کرتے ہیں اور ان کی اولادیں بھی تباہ ہو جایا کرتی ہیں۔پھر آپ وہ ماں نہیں بن سکتیں جن کے پاؤں کے نیچے جنت ہے تو میں آپ کو یہ باتیں کھول کھول کر بچوں کی طرح سمجھ رہا ہوں، اس لئے نہیں کریں آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا، ذہین نہیں سمجھتا، مگر یہ باتیں ایسی ہیں جو خوب اچھی طرح وضاحت کے ساتھ گھوٹ گھوٹ کر پلانے والی باتیں ہیں تاکہ آپ میں سے ہر ایک کے دل میں اس طرح پیوست ہو جائیں کہ پھر کبھی بھول نہ سکیں اور مردوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اگر له سوره الروم ، آیت ۲۲