حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 151
ادا وہ سمجھتا ہے کہ پردے میں لپٹی ہوئی پرانے زمانے کی عورتیں ہیں، ان کو کیا پتہ کہ زندگی کیا چیز ہے۔آپ نے اگر زندگی کے معنی سمجھ لئے ہوں۔آپ کی زندگیاں اگر اعلیٰ درجہ کی پرسکون زندگیاں بن چکی ہوں تو آپ ان کی طرف رحم کی نظر سے دیکھیں گی۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی سویا ہوا انسان ہو تو جب اُس کو اُٹھایا جائے وہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر ظلم ہو رہا ہے اور وہ کہتا ہے پاگل ہو گئے ہیں، صبح صبح اُٹھ کہ یہ کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے لیکن جب اُٹھ جائے آنکھیں کھل جائیں اور صبح کی تازہ ہوا میں باہر نکلے اور سیر پر جائے تو سونے والوں پر اس کو رحم آنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے یہ بے چارے ابھی تک پاگلوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔یہ مختلف زاویوں کی بات ہے لیکن جو جاگا ہوازاویہ ہے وہ غالب زاویہ ہے، جو سویا ہوا زاویہ ہے و مغلوب زاویہ ہے۔ہر شخص جو سو کر اٹھتا ہے اس کو سونے کا مزا پتہ ہے لیکن جواُٹھنے کا مزا ہے وہ اور ہی مزا ہے اور اس کی کیفیت ہی اور ہوتی ہے۔آپ کے مزے جاگے ہوئے مرے ہیں۔بیدار مغربی کے مزے ہیں۔آپ نے روشنی میں آنکھیں کھولی ہیں۔اسلام کا ماحول آپ کو اندھیروں سے روشنی میں لے کر آتا ہے۔اس لئے یہ لوگ جو آپ پر سنتے ہیں یہ صرف اُن کی بے وقوفی کی تو ہیں ہیں۔یہ سوئے ہوئے سمجھ رہے ہیں کہ ہم زیادہ مزے میں ہیں۔آپ اگر ان کو اپنے مزے سے آشنا کرنا چاہتی ہیں تو اپنے گھروں میں ایسے ماحول پیدا کریں جو سکون سے بھرے ہوئے ہوں۔اور اس میں صرف عورت کا کام نہیں ہے۔مرد کی بھی بڑی ذمہ داری ہے۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ مرد بھی سن رہے ہیں وہ اچھی طرح غور سے سُن لیں۔خدا تعالیٰ نے اوّل ذمہ داری کمانے کی مردوں پر ڈالی ہے۔وہ مرد جو عورتوں کی کمائی پر بیٹھے ہوں وہ تو مردوئے لگتے ہیں۔مرد تو نہیں لگتے۔ایسے بے ہودہ لگتے ہیں کہ سارا دن بیٹھے وہ روٹیاں توڑ رہے ہیں یا سور ہے ہیں یا بیوی کے لئے مصیبت ڈالی ہوئی ہے ان کو لو اس کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے کمانے کی ذمہ داری اُن پر رکھی ہے۔وہ کمائیں اور اتنی ضرورتیں پوری کریں کہ عورت ان نیک کاموں کے لئے فارغ ہو۔اس نے بچے بھی پیدا کرنے ہیں۔کھانے بھی پکانے ہیں۔برتن بھی دھونے ہیں۔