حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 150

10۔ہوں آپ کو میسر ہونا چاہیے ان کاموں پر خرچ ہونا چاہیے۔پھر علمی کام ہیں ، عورتوں کو اپنے اندر علمی ذوق بھی پیدا کرنے چاہئیں۔جو اس کا لطف ہے وہ ڈرامے دیکھنے فضول کہانیاں سننے اور اس قسم کی چیزوں میں وقت ضائع کرنے میں نہیں آسکتا۔ہم نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ حضرت چھوٹی پھوپھی جان اور حضرت بڑی پھوپھی جان کی دنیا کے لحاظ سے بہت معمولی تعلیم تھی لیکن حضرت مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہو) کے گھر میں پرورش کا ایک یہ فیض بھی تھا کہ علم سے بڑی دلچسپی تھی اور ظاہری تعلیم نہ ہونے کے با وجود ایسی روشن دماغ تھیں ایسا وسیع مطالعہ تھا کہ اکثر مجھے یاد ہے جب بھی گئے ہیں اُن کے ہاتھوں میں کتا بیں ہی دیکھیں یا بات کرنے لگے ہیں تو کتاب دُہری کر کے رکھ دی تاکہ جب باتیں ختم ہوں تو پھر کتاب اُٹھا لیں اور اس کے نتیجے میں ان کی زبان میں چلا تھی ان کو ادب کا ایسا پیارا ذوق تھا کہ حضرت بڑی پھوپھی جان حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی نظمیں آپ پڑھ کر دیکھیں آپ حیران ہوں گی کہ اس دور کے بڑے بڑے شاعر بھی فصاحت و بلاغت میں آپ کا مقابلہ نہیں کرتے۔ذہن بھی روشن، دل بھی روشن اور سکینت بھی۔ہر ابتلا میں بھی ایک سکینت تھی کہ جو کبھی زندگی کا ساتھ نہیں چھوڑتی تھی۔جو اس زندگی میں مزا ہے وہ مزا ہر وقت متحرک رہنے ، بے چین رہنے میں کہاں نصیب ہو سکتا ہے۔اپنے دلوں اور گھروں کو سکون سے بھر دیں پس میں آپ کو کسی بوریت کی طرف نہیں بلا رہا میں آپ کو بہتر زندگی کی طرف بلا رہا ہوں جو دائماً آپ کے دلوں کو سکون سے بھر دے گی اور اس کی اس لئے ضرورت ہے کہ جب تک ہم ایسے گھر نہیں پیدا کریں گے۔ہم معاشرے کی اصلاح نہیں کر سکتے ہم معاشرہ کو بتا نہیں سکتے کہ ہم کیوں بہتر ہیں۔میری مراد وہ معاشرہ ہے جو غیر کا معاشرہ ہے۔وہ آپ کی طرف اُلٹ کر دیکھتا ہے اور تضحیک سے دیکھتا ہے ، حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے