حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 99

۹۹ ایسے لوگوں اور قوموں کو ترقی یافتہ دنیا بد تہذیب کہتی ہے اور ان سے اب سلوک کرتی ہے کہ گویا یہ اگلے وقتوں کے لوگ ہیں ان بیچاروں کو پتہ ہی نہیں کہ دنیا متمدن ہو چکی ہے اور اتنی ترقی کر چکی ہے کہ اس میں عصبیتوں کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے اور آپ کو مہذب اور متمدن سمجھنے والی دنیا جب اس کم ترقی یافتہ دنیا پر ہنستی ہے تو وہ اس پر بلاجواز ہنس رہی ہوتی ہے۔ترقی یافتہ دنیا چونکہ بہتر سیاستدان ہے۔بہتر ڈپلومیٹ ہے اس لئے اس دنیا میں اور اُس پرانی دنیا میں جسے یہ غیر متمدن کہتی ہے فرق ہے تو صرف اتنا کہ یہ دنیا اپنی عصبیتوں کو چھپانے میں کامیاب ہو جاتی ہے ، ایسی زبان استعمال کرنے کا یہ ملکہ رکھتی ہے کہ جس کی مدد سے ایک طرف تو عصبیت کے خلاف جہاد جاری رکھا جائے اور دوسری طرف خود اپنے مفادات میں بلاشک و امتیاز عصبیت برتی جائے ، پس آج کی دنیا بھی عصبیت سے پاک نہیں ہے۔جہاں تک تیسری دنیا کا تعلق ہے وہ سادہ دیوقوف ہے اُسے سیاست کاری کا فن نہیں آتا احمقوں کی طرح جو کچھ دل میں بھرا ہوا ہے (خواہ وہ عصبیت ہو، اسے اپنی زبان سے ظاہر کرتی چلی جاتی ہے۔اُس کی طرف سے عصبیت کا یہ اظہار خود اس کے اپنے خلاف استعمال ہونے لگتا ہے۔اب رہی وہ دنیا جو تہذیب کی علمی ار بنتی ہے اور حیس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ عصبیت سے پاک ہے، فی الحقیقت عصبیت سے وہ بھی پاک نہیں ہے۔اگر فرق ہے تو صرف اظہار یا عدم اظہار کا فرق ہے۔یعنی کوئی اپنی عصبیت کو ظاہر کر دیتا ہے اور کوئی اپنی چرب زبانی سے اپنی عصبیت پر پردہ ڈالے رکھتا ہے۔جو اپنی عصبیت کو چھپانے کا فن جانتا ہے اور اُسے بات کرنے کا ایک سلیقہ آتا ہے کہ جس سے اس کی عصبیت چھپی رہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا کہ واقعی وہ عصبیت سے پاک ہے۔پس بنیادی طور پر دنیا آج بھی عصبیتوں کی دیسی ہی شکار ہے جیسی آج سے سو سال پہلے بھی یا ہزار سال پہلے تھی۔آج بھی دنیا کو عصبیتوں سے ویسا ہی خطرہ درپیش ہے جیسا آج سے چالیس پچاس سال پہلے درپیش تھا یا جیسے اس سے بھی پہلے