حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 83

۸۳ میں رائج ہو جاتا ہے۔پس دونوں طرف کی کمزوریاں آگے جا کر جمع ہوتی ہیں اور بعض دفعہ ضرب کھا جاتی ہیں اس لئے گھر کے معاشرے کو جنت بنانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔بہت باریک نظر سے ان باتوں کو اور ان تعلقات کو دیکھنا چاہیئے۔آخری فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آپ کا گھر آپ کے لئے جنت بنا ہے کہ نہیں۔آپ کے خاوند کے لئے جنت بنا ہے کہ نہیں۔آپ کے بچے آپ دونوں سے برابر پیار کرتے ہیں اور احترام کرتے ہیں کہ نہیں۔اگر مردمیں کمزوریاں ہیں تو عورت حتی المقدور اُن سے صرف نظر کرتی ہے کہ نہیں لیکن کوشش ضرور کرتی ہے کہ ان کمزوریوں کو دور کرے۔نیک اور پاک مخلصانہ نصیحت کے ذریعہ وہ اپنے خاوند کو سمجھاتی رہتی ہے اگر ایسا ہے تو اچھا ہے۔اگر پہلی باتیں ہیں تو پھر وہ عورت اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کی اہل نہیں ہے۔یہی حال مردوں کا ہے پس اگر چہ حضور کرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مردوں کا نام نہیں لیا اور عورتوں کا لیا ہے تو اس میں بڑی گہری حکمت ہے مگر گھر کی جنت بگاڑنے میں یقینا مرد بھی ایک بڑا بھاری کردار ادا کرتے ہیں اور عورت کا کام ہے کہ اپنی اولاد کی ان سے حفاظت کرے۔حفاظت کیسے کی جائے ؟ یہ ایک بار یک نکتہ میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔جب مرد کے نظام یامرد کی زیادتیاں کسی عورت کا دل ٹکڑے کڑے کر رہے ہوں تو مرو کے جانے کے بعد اس کا رد عمل یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ اپنی اولاد کی اس ظالم مرد کی عادتوں سے حفاظت کر رہی ہے کہ نہیں۔اگر وہ اس اولاد کو اپنا ہمدر دنیا نے کی خاطر بڑھا چڑھا کر ان باتوں کو بیان کرے اور ظلموں کے قصے بنا کر ٹسوے بہائے اور انہیں اپنائے اور انہیں کہے کہ تمھارا ظالم باپ بنے تو اپنے ہاتھوں سے اس نے ان کو برباد کر دیا اور ان کی حفاظت کرنے کی بجائے مرد کے ظلموں کو ان تک پہنچنے کی اجازت دی۔اگر وہ قربانی کرے اور مرد کے ظلم اور اولاد کے درمیان حائل ہو جائے۔اپنے پر اپنے سینے پر مرد کے فلم نے لیکن اولاد تک ان کا نقص نہ پہنچنے دے تو اس کی مثال ایک ایسی مرغی کی طرح ہوگی جو کمز ور جانور ہے لیکن جب چیل اس کے بچوں پر جھپٹتی ہے تو اپنے پیروں تلے ان کو لے لیتی ہے۔خود کتا ہی دُکھ اُٹھائے۔خود چاہیے اس راہ