حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 84

AM میں ماری جائے لیکن اپنے بچوں تک اس ظالم چیل کا نقصان نہیں پہنچنے دیتی سوائے اس کے کہ مرنے کے بعد وہ ان سے جو چاہے کرے۔یہ وہ سچی ماں ہے جو ایک جانور کے اندر میں کھائی دیتی ہے۔اسے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی غلامی کا دم بھرنے والی خواتین ! کیا تم جانوروں میں سے ایک بچی ماں کے برابر بھی نہیں ہو سکتی ؟ کیا حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی غلامی کے ہی تقاضے ہیں کہ ماں کی حیثیت سے جوانی دنیا میں جو عظیم نمونے نہیں ملتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لونڈیاں اور آپ کی غلام عورتیں ان نمونوں کو بھی اپنا نہ سکیں ؛ آخری فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آپ اپنی اولاد اور بداثرات کے درمیان حائل ہو کر ہر قیمت پر اپنی اولاد کو ان بداثرات سے روک سکتی ہیں کہ نہیں روک سکتیں۔پس بہت سی ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو گھروں کو بناتی ہیں یا بگاڑتی ہیں۔اس مختصر نصیحت میں مجھے پتہ ہے کہ وقت زیادہ ہے لیکن پھر بھی میں مختصر نصیحت کہنا چاہتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ مضمون بہت ہی لمبا ہے اور تھوڑے وقت میں تفصیل سے بیان نہیں ہو سکتا، یہ نمونے میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں ان کو بڑھا لیں اور بیدار مغربی کے ساتھ اپنے گھروں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ان توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کریں جو آپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔آخری نتیجہ اس کا یہ نکلے گا کہ اگر آئندہ نسل جہنم کی طرف قدم بڑھانے ای من و تو حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم زبان حال سے آپ کو مطعون کر رہے ہوں گے ، آپ سے شکوہ کر رہے ہوں گے کہ اے میری طرف منسوب ہونے والی ماؤں تم نے اپنے پیچھے جنت نہیں چھوڑی۔تمہارے پاؤں سے جہنم کی لپیٹیں تو نکلیں لیکن جنت کی تسکین بخش ہوائیں زچلیں۔اس لئے کیا آپ اس شکوہ کے مقام پر اپنے آپ کو دیکھنا چاہتی ہیں کہ نہیں۔اس کسوئی کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں تو ہر بات میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مزاج آپ کی راہنمائی کرے گا۔اس مزاج میں اپنے آپ کو ڈال کر سوچا کریں کہ میرا آقا و مولا اس موقع پر مجھ سے کیا توقع رکھتا ہے۔