حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 55

ده جو پیکس بھجانے کی بجائے اُسے بھڑکاتی چلی جاتی ہے۔۔حقیقی جنت رحمی رشتوں کو مضبوط کرنے میں ہے حقیقی جنت گھر کی تعمیر میں ہے حقیقی جنت رخمی رشتوں کو مضبوط کرنے میں ہے اور اسی لئے قرآن کریم نے اس مضمون پر اس آیت میں روشنی ڈالی جو میں نے آپ کے سامنے رکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کمال فراست اور کمال عارفانہ نگاہ ڈالتے ہوئے اس آیت کو نکاح کے موقعہ کے لئے منتخب فرما لیا۔یہ فراست کے نتیجہ میں بھی تھا، آپ کے عرفان کے میں بھی تھا لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ گو میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں آئی کہ آنحضور صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایسا خدا تعالٰی کی واضح وحی کے نتیجہ میں کیا مگر چونکہ آپ کا دستور یہ تھا کہ وجی کے سوا کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے اس لئے مجھے کامل ایمان اور یقین ہے کہ فراست کے علاوہ اس کا دھی سے بھی تعلق تھا۔ضمنا آپ یہ کہ سکتی ہیں کہ اگر فراست سے تعلق تھا تو پھر دی۔کیسے ہوا اور اگر وجی سے تھا تو پھر فراست سے کیسے ہوا ؟ اس سوال کا جواب قرآن کریم نے خود دے دیا ہے۔قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کے نور کی مثال یا خدا کے نور کی مثال آپ کی شکل میں یوں پیش کرتا ہے کہ گویا آپ ایک ایسا شفاف تیل تھے جواز خود بھڑک اٹھنے پر تیار بیٹھا تھا۔اس کے اندرایسی پاکیزہ صفات تھیں کہ اگر خدا کی وحی نازل نہ بھی ہوتی تو اس نے دنیا کے لئے روشنی کے ہی سامان کرتے تھے۔اس پر خدا کی وحی کا نور نازل ہوا اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم نور علی نور بن گئے۔پس دی کا فراست سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مختلف انبیا کی وحی کے مرتبہ میں فرق ہے اور اس کی صفائی اور روشنی میں فرق ہے ورنہ خدا تو رہی ہے جس نے ہر نبی کی طرف وحی بھیجی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جور روشن تعلیمات نصیب ہوئیں ان تعلیمات میں یقیناً آپ کی خداداد فراست کا دخل تھا جس پر نور وحی نے نازل ہو کر اسے نور علی نور بنا دیا۔