حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 32

حسن دکھائی نہیں دیتا، میں کیسے محبت کروں ؟ چنانچہ بہت سے احمدی مرد اور بہت سی احمدی عورتیں مجھے گھبرا گھبرا کر کھتے ہیں کہ آپ تو کہتے ہیں ناز میں لذتیں پیدا ہو سکتی ہیں ہم نے تو اتنی ٹکریں ماری ہیں لذت پیدا نہیں ہوئی لذت اس لئے پیدا نہیں ہوئی کہ ان کا صنم خیالی رہا ہے۔اس لئے کہ انہوں نے نماز کے کلمات پر غور نہیں کیا اُن میں ڈوب کر نماز نہیں پڑھی۔یہی وجہ تھی کہ مجھے کئی مہینوں پر پھیلا ہوا ایک سلسلہ خطبات دینا پڑا۔یہ سمجھانے کے لئے کہ نماز میں کیسے دوبا جاتا ہے اور نماز میں ڈوبنے کے نتیجہ میں خدا کا چہرہ دکھائی دینے لگتا ہے اور وہ اتنا حسین چہرہ ہے کہ آپ چاہیں نہ چاہیں آپ اُس کی محبت میں مبتلا ہو جائیں گی۔محبت الہی حاصل کرنے کا راز محبت میں ایک لطف کی بات یہ ہے کہ اس میں پھر اختیار کی بات نہیں رہتی جو چیز فرض ہے وہ ہے حسن کے ساتھ رابطہ کیونکہ حسن سے رابطے کے بغیر محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ایک شاعر کہتا ہے یہ ایسی آگ ہے جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے۔غالب کا یہ شعر ہے کہ محبت ایک عجیب پاگل کر دینے والی چیز ہے کہ ہم کوشش کریں کہ محبت ہو جائے تو ہوتی نہیں اور جب ہو جائے تو مٹتی نہیں۔ایسی آگ لگ جاتی ہے کہ بھائی نہیں جا سکتی۔اس لئے بندہ کا اس میں کوئی اختیار نہیں ہے لیکن حسن کا اختیار ہے۔حسن فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو کس سے محبت ہوگی اور مشن چونکہ خدا کا حسن ہے اس لئے خداہی فیصلہ کرے گا کہ کس وقت کتنا آپ پر جلوہ گر ہو۔اس لئے دعا ضروری ہے اور دعا یہ مانگنی چاہیئے کہ اے خدا ! اپنا حسین چہرہ دکھا، چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام چونکہ عارف باللہ تھے انہوں نے یہ دُعا نہیں کی کہ اے خدا ! میکہ دل کو محبت سے بھرے انہوں نے یہ دُعا کی کہ اسے خدا مجھے اپنا چہرہ دکھائے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ چہرہ دیکھا اور میں بے اختیار ہوا۔یہی مضمون حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہو) نے حضرت محمدمصطفی صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم