حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 31

I ہے اور خدا کو تو یہ بات پسند نہیں۔یہ سلسلہ شروع میں تھوڑے تھوڑے تجربوں سے شروع ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی انتہا ایک خود کو پانی کی طرح بہتی ہے۔اُس وقت انسان اپنے آپ کو متوجہ نہیں کیا کرتا بلکہ محبت میں رواں دواں ہو جاتا ہے وہ اُس کو اُٹھائے پھرتی ہے اس کی زندگیوں کے رخ موڑ دیتی ہے محبت فیصلہ کرتی ہے کہ کس طرف اُس نے جانا ہے اُس وقت وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ ہمیں تو جانا ہی جاتا ہے۔کیونکہ وہ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔خدا تک پہنچنے کے لئے خدا سے مڈ مانگنا ضروری ہے پس آج دنیا کے سارے مسائل کا حل خدا کی محبت ہے اور یہی وہ محبت ہے جو دلوں کو اکٹھا کر سکتی ہے اس کے علاوہ باقی سارے نسخے بے معنی اور جھوٹے اور لغو نسنے ہیں، منہ کی باتیں ہیں۔اس سے زیادہ اُن کی کوئی حقیقت نہیں ہے بس یہ سفر شروع کریں اور اگر اس سفر میں آپ بہت سا وقت ضائع کر چکی ہیں اور اس راہ میں بہت پیچھے رہ گئی ہیں تو خدا سے مدد مانگیں کیونکہ خدا کی مدد کے بغیر یہ سفر مکمل نہیں ہوا کرتے کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے کہ وہ خود خدا تک پہنچ جائے یا خدا کا پیار حاصل کر سکے اس کے لئے بھی خدا سے مدد مانگنی پڑتی ہے لیکن نیست فرض ہے اور نیت کی سچائی فرض ہے۔یہ کام آپ کے سپرد ہے۔آپ ایک دن یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ نے خدا کی محبت میں مبتلا ہونا ہے اور یہ کہ جیسے تیسے بھی ہو سکے آپ اپنے رب سے محبت کریں گی اور اُس کے حُسن کی تلاش کریں گی جب آپ محبت کی بات کریں گی تو حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کا یہ شعر آپ کے لئے ایک تنبیہہ بن جائے گا بن دیکھے کسی طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل آپ سوچیں گی کہ میں تو واقعی نظریاتی طور پر ایک خدا کی قائل تھی مجھے تو اس کا