حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 30

ہیں اپنے آپ کو تبدیل کر دی ہم ان کو جواب میں کیا کہتے ہیں۔سہ یہ تونے کیا کہا ناصح نہ جانا کوئے جاناں میں ہمیں تو راہ رووں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا اسے پاگل نصیحت کرنے والے تو یہ کیا کہ بیٹھا ہے کہ اپنے محبوب کے کوچوں میں نہ جاؤں۔خدا کی قسم اگر ہر چلنے والا مجھے اس کوچے میں چلتے ہوئے ٹھوکریں مارتا ہوا چلے تب بھی میں وہاں جاؤں گا۔ان ٹھوکروں کا مزہ محبت کے سوا سمجھ آہی نہیں سکتا محبت پاگل کر دیا کرتی ہے۔محبت ہی ہے جس نے فریاد کا تصور پیدا کیا۔وہ تمام عمر ایک پہاڑ کو کاٹتا رہا اس نعرض سے کہ اس پہاڑ سے وہ نہریں جاری ہوں جن کو بعد میں اُس کی محبوبہ کو بطور انعام دیا جائے گا۔اور اسی حالت میں اُس نے جان دے دی۔کیا بات تھی جس کی خاطر اس نے ساری زندگی اس مشقت کے کام میں گنوادی۔وہ مشقت ہی اپنی ذات میں اُس کی جزا تھی۔لوگوں کو مجھے نہیں آتی۔لوگ کہتے ہیں فریاد پاگل ہو گیا تھا۔وہ پاگل تو تھا لیکن عشق میں پاگل ہوا تھا۔عام پالکوں جیسا پاگل نہیں تھا جن کو اپنے وجود کی خبر نہیں رہتی۔جو عشق خدا کے پاگل ہوتے ہیں ان کا مقصد روحانی مقصد بن چکا ہوتا ہے۔اس مقصد کو دنیا والے سمجھ نہیں سکتے۔پس محبت الہی کے نتیجہ میں آپ کے سارے کام آسان ہو جائیں گے۔پھر اسیس بات کی حاجت نہیں رہے گی کہ کوئی کہے اس طرح نیشن کر کے باہر نہ پھرا کرو ، اس طرح وقت وقت ضائع نہ کیا کرو ، سادہ رہو، جس حد تک ہو سکتا ہے اچھی نو خدا نے تمہیں رزق دیا ہے لیکن اس میں حد سے زیادہ متجاوز نہ کرو، دین کی خدمت کے لئے بھی کچھ رکھو اور دنیا میں ایک پاک معاشرہ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔یہ سب خالی نصیتیں ہیں آپ نہیں گی اور بھول جائیں گی لیکن اگر خدا سے محبت ہو جائے تو آپ کے دل میں ایک ناصح پیدا ہو گا بہر وقت دھیان خدا کی طرف رہے گا۔اگر ہر وقت نہیں تو بار بار یہ دھیان آنا شروع ہو جائے گا۔لبسا اوقات آپ ایک کام کریں گی اور دل سے ایک آواز اُٹھے گی کہ مجھے تو خدا سے محبت