حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 138
جو خاص وقت کے لئے بچا کے رکھے گئے تھے لیکن اس سے پہلے وہ وقت آگیا ہے اب میں اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہوں اور اس کے بعد میں نے کچھ تفصیل سے ذکر بھی کیا تھا۔بہرحال میں و گفتگو کرتا ہوں اس سے ایک دم کایا پلٹ جاتی ہے اور سارے مخالفین سر مینیک کر ہاں میں ہاں ملانے لگ جاتے ہیں تو اس رویا سے میں یہ بجھتا ہوں کہ میری خلافت کا لجنہ اما والدہ سے ایک گہرا تعلق ہے۔لجنہ اما و اللہ کے تیر کہنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لونڈیوں کا ایک تیر ہے جو دُنیا کے لئے پھینکا جا رہا ہے۔اس کا جو بھی مطلب ہوئیں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ میرے دور میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بوند جماعتی خدمات میں بہت ہی مستعد ہو گی اور بہت قوت کے ساتھ میری مدد کرے گی۔یہ تعبیر اس لئے کی ہے کہ تیر تو چلتا ہے لیکن تیر کو چلانے والے ہاتھ پیچھے ہوتے ہیں اور ان ہاتھوں کی طاقت تیروں میں منتقل ہوتی ہے پس مجھے لجنہ اماء اللہ کے تیروں میں سے ایک تیر کہا۔اس سے مراد یہ ہے کہ انشاء اللہ میری ہر تحریک پر لبته ایا مرالہ بڑی قوت کے ساتھ عمل کرے گی اور اس کی طاقت کے زور سے دنیا تک ( دین حق۔۔۔ناقل) کا پیغام پہنچے گا۔میری خلافت کا روس کے ساتھ بھی ایک تعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) نے بہت لمبا عرصہ پہلے (یعنی ہندوستان کی تقسیم بھی ابھی نہیں ہوئی تھی اور میں ابھی بہت چھوٹا تھا ایک رویا دیکھی اور رویا یہ تھی کہ آپ کسی ایسی جگہ میں ہیں جہاں ارد گرد فوج کا گھیرا ہے اور خطرہ ہے اور اس کمرے میں اقم طاہر (میری والدہ ) لیٹی ہوئی ہیں اور ان کے ساتھ ایک بچہ ہے جو میرا بچہ ہے لیکن چونکہ میری عمر اس بچے سے بڑی تھی جو ان کو نظر آیا۔اس لئے حضرت مصلح موعود اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) کو سمجھ نہیں آسکی کہ یہ لڑکا کون ہے۔بہرحال آپنے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ خطرہ ہے۔ہمیں ام ظاہر کو کہتا ہوں کہ جلدی سے اٹھو اور تیار ہو۔اوسم اس ملک سے نکل جائیں لیکن وہ شاید دیر