حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 136

١٣٩ چیزوں کے ترجمے چاہئیں۔بہت سے کارکن چاہئیں۔بہت سی عورتیں چاہئیں جو عورتوں کے مسائل سے اُن کو آگاہ کریں۔اُن آنے والوں میں ایک خاتون بھی تھیں جو میری اہلیہ سے بھی ملیں اور میری بچیوں سے بھی بہت اچھا نیک تأثر لے کر وہ واپس لوٹی ہیں تو اس لئے یں آپ کے ساتھ یہ بات کھل کر کر رہا ہوں کہ آپ پر بہت سی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔صرف ایک منگولیا کا ہی معامر نہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا روس کی مختلف ریاستوں سے بڑی تیزی کے ساتھ دلچسپی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔مردوں نے تو جو کام کرنا ہے وہ کریں گے ہی لیکن میری یہ دلی تمنا ہے کہ عورتیں کسی صورت میں بھی مردوں سے پیچھے نہ رہیں اور مجھے یقین ہے کہ اگر عورتیں یہ فیصلہ کر لیں تو ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ مردوں سے پیچھے نہیں رہیں گی۔اس پر میرا ایک مشاہدہ گواہ ہے۔حضرت مصلح موعود اللہ تعالٰی آپ سے رامنی ہو) کے زمانہ میں بھی جب بھی حضرت مصلح موعود نے ایسی تحریک کی جس میں لجنہ کو خاص طور پر مخاطب کر کے ان پر ذمہ داری ڈالی تو اس تحریک کے جواب میں انہوں نے بہت جلدی بھیک کہا اور مردوں کے مقابل میں بہت تیزی کے ساتھ ان فرائض کو پورا کیا جوائن کے ذمہ لگائے گئے تھے۔اسی طرح اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ چونکہ اب ہر تک کی صد لجنہ براہ راست مجھ سے متعلق ہو چکی ہے۔بیچ میں کوئی واسطہ نہیں رہا، جب بھی کوئی ہدایت لجنہ کو دی جاتی ہے تو بلا تاخیر ان کی طرف سے خدا کے فضل کے ساتھ لبیک کہتے ہوئے اس تحریک پر عمل ہوتا ہے اور مردوں میں نسبتاً کچھ مستی ہو جاتی ہے تعلیم کے معاملہ میں بھی ہم نے دیکھا ہے ہ ربوہ میں بھی اور پہلے قادیان میں بھی احمدی بچیاں تعلیم میں اپنے بھائیوں وغیرہ سے آگے تھیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے پاس باہر کے مشاغل نہیں تھے۔لڑکے باہر جا کر بہت سا وقت ضائع کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود آپس میں باتیں کرنے کے مواقع تو تھے جن کی قربانی کرنا کہ آپس میں باتیں چھوڑ کر پڑھائی کرنا یہ بھی بہت بڑی چیز ہے۔چنانچہ لجنہ نے اور احمدی خواتین نے اللہ کے فضل سے اچھے کاموں میں ہمیشہ آگے قدم بڑھائے ہیں