حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 124

۱۲۴ لگے۔یہ ایک انسانی مجبوری ہے لیکن اس تکلیف کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ تکلیف محسوس کرنے والے نے دوسے کو مجرم قرار دے دیا ہے مجرم قرار دینے سے پہلے اس کی تحقیق کروائی جاتی ہے۔یہ ایک عام طریق ہے ہمیشہ اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے۔میکر پاس ساری دنیا سے شکایتیں آتی ہیں۔قرآن کریم کی اس ہدایت کے تابع کہ إِذَا جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَرٍ فَتَبَيَّنُوا میں سمجھتا ہوں کہ تحقیق اس لئے بھی ضروری ہے کہ لکھنے والا مجرم معلوم ہوتا ہے اور خواہ اُس نے نظام جماعت کا واسطہ اختیار نہ کیا ہو میں مناسب سمجھتا ہوں کہ میٹھی نظام جماعت کے پاس واپس بھیجو اؤں اور تحقیق کروں کہ کس حدتک یہ شخص جھوٹے الزامات لگا رہا ہے اور کسی حد تک پہنچے الزامات لگا رہا ہے ؟ اگر میں ایسا نہ کروں تو دو شخص نا واجب طور پر یہ حرکتیں کرتا چلا جائے گا اور اس کو دنیا کے سامنے ظاہر نہیں کیا جاسکے گا اگر میں شکایت کی میٹھی نظام جماعت کی طرف بھیجوں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ امیر کی چھٹی آجائے کہ آپ نظام جماعت کو توڑ رہے ہیں۔ظاہر ہے نظام جماعت کا مجھے زیادہ پتہ ہے نہ کہ امیر کو۔اگر خلیفہ وقت نے نظام جماعت کی حفاظت نہیں کرنی تو اور کون ہے جو نظام جماعت کی حفاظت کرے گا۔خلیفہ وقت بہتر سمجھتا ہے کہ نظام کی باریکیاں کیا ہیں ؟ کس طرح اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور کس طرح اس پر عمل کیا جاتا ہے۔اس لئے اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہ پڑا کریں۔یہ حق آپ کو بھی اور آپ میں سے جماعت کے ہر عہدیدار کو بھی ہے کہ اگر کوئی شکایت آئے تو وہ اس لئے اُسے زیر غور نہ لائے کہ وہ نظام کی معرفت نہیں آئی۔بلاشبہ ہر عہدیدار کو یہ حق حاصل ہے لیکن اگر وہ ایسا معاملہ ہو جس کے متعلق اُس کا دل اس کو یہ کہے کہ اس میں تحقیق ضروری ہے توپھر تحقیق کرنا بھی جرم ہو گا لیکن عدل کے اس تقاضے جاء کو طوظ رکھنا ضروری ہوگا کہ جین کے خلاف شکایت کی گئی ہے اُسے پوری بات سے مطلع کر دیا ہے۔زیر غور شکایت میں صحیح طرز عمل کی وضاحت ، وہ معامل جو ہیں تے