حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 123
۱۲۳ جھنک کر مجھ سے وہ انعام چھین لیا اور کہا میں غلطی لگ گئ تھی جو تمہیں بلالیا تم واپس چلی جاؤ۔بوتی سے یہ شکایت سن کر مجھے بہت تکلیف پہنچی۔میں نے انگلینڈ واپس پہنچ کر صدر لجنہ کو لکھا کہ اس معاملہ کی تحقیق کرائیں اور تحقیق کے نتیجہ سے مجھے اطلاع دیں ، وہاں سے جوا جواب آیا اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ آپ خود تو نظام کی پابندی کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور خود ہی نظام کو توڑ رہے ہیں۔مراد یہ تھی کہ چونکہ اس لڑکی نے میری (متعلقہ عہدیدار کی معرفت خط نہیں کھا اس لئے آپ کو حق نہیں کہ تحقیق کریں۔یہ جواب درست نہیں ہے۔میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ بعض صورتوں میں تحقیق کرنا میرا بھی حق ہے اور آپ میں سے سرعہد یدار کا بھی حق ہے۔اگر کوئی شکایت پہنچے اور وہ شکایت اس نوعیت کی ہو کہ وہ صدیدار فیصلہ کرے کہ میں تحقیق کراؤں تو اس کا یہ حق تو نہیں کہ وہ یکطرف اثر قبول کر کے کسی کو مجرم شمار کرے۔لیکن یہ حق ضرور ہے کہ از راہ تحقیق نظام جماعت میں چھٹی بھجوائے اور اصل واقعہ کی تفصیل معلوم کرے اور پوچھے کہ ایسا کیوں ہوا۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔آپ کی لجنہ کی عہدیدار کی لاعلمی اور عدم تربیت کے نتیجہ میں ایسا ہوا ہے۔مجھے یاد ہے جین میں جب ہم قادیان میں تھے تو ہمیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہوا کے ساتھ اکٹھے بیٹھنے کا کم موقع ملتا تھا۔انہوں نے جب ہمارے گھر کھانا کھانا ہوتا تو ہیں بھی اکٹھے بیٹھنے کا موقع مل جاتا تھا اور کھانے میں ہم بھی ساتھ شامل ہواکہتے تھے۔اس وقت میں دیکھا کرتا تھا کہ کئی دفعہ عورتیں اپنی اپنی شکایتیں لے کر آجاتیں۔کوئی رولی ہوئی آئی اور اپنی شکایت بیان کر گئی اور آپ نے وہ شکایت نوٹ کر لی۔کوئی اور عورت آئی اور چھٹی میں لکھی ہوئی کوئی شکایت دے گئی۔ایسی شکایتوں کے متعلق آپ کا دستور یہ تھا کہ جب تک آپ فریق ثانی کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دے لیتے اُس وقت تک کوئی فیصلہ ز کرتے۔آپ یکطرفہ بات کبھی نہ مانتے تھے۔البتہ یکطرفہ بات کا اس حد تک دل پر ضرور او ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان تکلیف کی حالت میں ہے تو سننے والا خود بھی تکلیف محسوس کرنے