حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 105
۱۰۵ عمل سے ان قوموں تک نہ پہچا یا تو آپ یقیناً جواب دہ ہوں گی اور مرد بھی (بوکس رہے ہیں ) جواب دہ ہوں گے۔مغربی دنیا میں سچ کے معیار کا عمومی جائزہ اس پہلو کے پیش نظر کل میں نے باقتضائے انصاف ایک بات خطبہ جمعہ میں پیش کی تھی ہیں نے بیان کیا تھا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ تسلیم کیا جائے کہ مغربی دنیا میں سے کا میار مشرقی دنیا سے مقابلہ بہت بلند ہو چکا ہے۔یہ بدنصیبی ہے کہ مشرقی دنیا میں ہر جگہ (صرف پاکستان کی بات نہیں ہے کیا ہندوستان، کیا افریقی مالک اور کیا تیسری دنیا کے دوسرے ممالک اور علاقے سب جگہ جھوٹ بڑھتا چلا جارہا ہے۔البتہ مشرق بعید میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پینے کا معیار بہت بلند ہے۔مثلاً جاپان میں بیچ کا معیار اتنا بلند ہے کہ میں اپنے ذاتی علم کے مطابق یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملہ میں جاپان یورپ کے کسی ملک سے پیچھے نہیں ہے بلکہ غالباً کچھ آگے ہی ہے۔اس لئے کل کے خطاب میں جو یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ گویا ساری مشرقی دنیا جھوٹ کی عادی ہو چکی ہے یہ بھی درست نہیں تھا۔اُس وقت میرے ذہن میں جاپان اور کوریا اور مشرق بعید کے دیگر ممالک نہیں تھے۔میں در اصل سہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور گردوپیش کے دوسرے ممالک پر نظر رکھ کر بات کر رہا تھا۔میرے خیال میں اس کی تصیح ضروری ہے صحیح بات یہ ہے کہ سارا مشرق جھوٹ کا عادی نہیں ہے۔مشرق میں بعض تو میں ہیں جو عادتا سچی ہیں اور بعض قومیں ہیں جو عادتاً جھوٹی بن چکی ہیں۔مغرب میں اس کے بالمقابل جھوٹ بہت کم پایا جاتا ہے۔جھوٹ محض اُس وقت بولا جاتا ہے جب خاص ضرورت پیش آئے در نہ روز مرہ کی سوسائٹی میں جھوٹ کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔یہ ایک انصاف کی بات تھی جو میں نے کی۔بعض لوگ اس پر تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ان کا کہنا یہ ہے کہ آپ کے اس طرح کہنے سے جماعت کی بدنامی ہوگی۔بدنامی میرے