حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 88

٨٨ محبت اور ولولے کے کروڑوں بھی اس کے قدموں میں ڈالے جائیں تو وہ رد کر دیتا ہے اٹھو کر بھی نہیں مارتا۔ان کو کوئی حیثیت نہیں اور ایک مخلص ایک غریب پیار اور محبت کے ساتھ اپنی جمع شدہ پونچی چند کوڑیاں سبھی پیش کرے تو اسے بڑھ کر پیار اور محبت سے قبول کرتا ہے جیسے آپ اپنے محبت کرنے والے محبوبوں کے تحفوں کو لیتے اور چومتے ہیں۔خدا کے بھی چومنے کے کچھ رنگ ہوا کرتے ہیں اور میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان معنوں میں خدا نے ان چند کوڑیوں کو ضرور چکھا ہوگا۔بظاہر یہ اصطلاح خدا پر صادق نہیں آتی مگر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ دستم نے اسی رنگ میں کئی مرتبہ خدا کا ذکر فرمایا ہے کہ فلاں نظارہ دیکھ کر خدا بھی حرکش پر سہنس پڑا۔اور ایک موقعہ پر حضرت مصلح موعود ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) نے یوں فرمایا کہ کہ ایک صحابی کی مہمان نوازی اس انداز کی تھی کہ آسمان پر خدا سبھی مچا کے لینے لگا۔یعنی اچھا مزیدار کھانا کھاتے ہوئے جس طرح انسان بعض دفعہ بے تکلفی سے منہ سے بچا کے مارتا ہے اسی طرح اللہ تعالی عرش پر اپنے اس پیارے کی مہمان نوازی کے نظارے دیکھ کر مچا کے لینے لگا تو ان معنوں میں میں یقین رکھتا ہوں کہ ان بظاہر چھوٹی چھوٹی قربانیوں کو خدا تعالیٰ نے لازماً چوما ہوگا اور پیار کا ہوگا اور یہی پیار ہے جو آئندہ ان بچیوں کے نصیب جگائے گا۔ان کے گھروں کو جنت ہی میں تبدیل نہیں کرے گا بلکہ جنت عطا کرنے والے گھر بنا دے گا پس یہ اس جنت کا دوسرا پہلو ہے جو آپ کے پاؤں تلے ہے اور آپ کے پاؤں سے وابستہ ہو چکی ہے منفی پہلو سے حفاظت ہی مقصد نہیں بچوں کو چوگا ڈالنا بھی تو ضروری ہے اور پرندس میں میں نے یہ دیکھا ہے کہ جب بچے چھوٹے ہوں تو وہ خود کرد ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔بعض پرندے ایسے ہیں جن میں اُن کی مادائیں بھی اور تر بھی دونوں سارا دن جنگ جنگ کر اپنے بچوں کی چونچ میں ڈالتے چلے جاتے ہیں خود کمزور ہور ہے ہوتے ہیں لیکن ان کی خاطر قربانی کرتے چلے جاتے ہیں۔پس روحانی رزق کے چوگے ہیں جو آپ نے اپنے بچوں کے منہ میں بچپن ہی سے ڈالتے ہیں۔قربانی کی یہ ادائیں اگر آپ بچپن میں ان کو سکھا دیں تو مرتے دم