حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 87
AL ایسے کام ہیں جن کی مجھے بعد سے توقعات میں بچپن ہی سے قرآن کریم کی تلاوت کی آواز ان کے کانوں میں گونجنی چاہیئے۔وہ ایسی ماؤں کی گود میں ملیں جن کو خدا سے محبت ہو اور خدا والوں سے محبت ہو۔وہ بچپن میں ایسے ذکر اُن سے کرتی چلی جائیں یہ وہ اولاد ہے جو لاز کا اپنی ماؤں کے پاؤں تلے سے جنت حاصل کرلے گی۔قرآن کریم با ترجمہ جانے کے سلسلہمیں بھی لجند اما راللہ نے بہت بڑی خدمت سر انجام دی ہے۔ان کی رپورٹ کے مطابق ، ۱۲۵ کی تعداد میں ایسی خواتین کو ترجمہ سکھایا گیا جن کو اس سے پہلے ترجمہ نہیں آتا تھا۔مالی قربانی کے متعلق نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہندوستان کی لغات میں سے سب کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن قادیان کی لجنہ کے متعلق کہ سکتا ہوں کہ نالی قربانی میں یہ بے مثل نمونے دکھانے والی ہے۔قادیان کی جماعت ایک بہت غریب جماعت ہے لیکن میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی تحریک کی جائے یہاں کی خواتین اور بچیاں ایسے ولولے اور جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیتی ہیں کہ بعض دفعہ میرا دل چاہتا ہے کہ ان کو روک دوں کہ بیس کرو تم میں اتنی استطاعت نہیں ہے اور واقعتہ مجھے خوشی کے ساتھ ان کا فکر بھی لاحق ہو جاتا ہے لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ جس کی خاطر انہوں نے قربانیاں کی ہیں وہ جانے بلکہ وہ جانتا ہے کہ کس طرح ان کو بڑھ چڑھ کر عطا کرنا ہے۔وہی اللہ اپنے فضل کے ساتھ ان کے مستقبل کو دین اور دنیا کی دولتوں سے بھر دے گا۔ایک موقعہ پر جب میں نے مراکز کے لئے تحریک کی تو احمدی بچیوں نے جو چھوٹی چھوٹی کھجیاں بنا رکھی تھیں، جیب نظارہ تھا کہ گھر گھر میں وہ کجھیاں ٹوٹنے لگیں اور دیواروں سے مار مار کر کجھیاں توڑ دیں۔چند پیسے ، چند سکے جو انہوں نے اپنے لئے بچائے تھے وہ دین کی خاطر پیش کر دیے۔ہمارا رب بھی کتنا محسن ہے، کتنا عظیم الشان ہے۔بعض دفعہ بغیر