حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 68

کی تحقیق کر دیکھو وہ شان جو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایک چھوٹے سے پاکیزہ جملے میں عورت کو عطا کر دی ہے اس کا لاکھوں کروڑواں حقہ بھی مجھے کہیں اور سے لاد کھاؤ۔میں نے اُسے بتایا کہ حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ تمھاری جنت تمھاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔اتنا خوبصورت فقرہ ہے عورت کے لئے اتنا عظیم اظہار سین ہے کہ جس کے متعلق یہ فقرہ کہا جائے بلاشبہ اس کو آسمان کی بلند ترین رفتیں عطا ہو جاتی ہیں۔کسی مرد کے متعلق نہیں فرمایا یا مردوں کے کسی گروہ کے متعلق نہیں فرمایا کہ ان کے پاؤں تھے ان کی اولادوں کی جنت ہے یا قوم کی جنت ہے۔صرف عورت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ایسا سرٹیفیکیٹ ، ایسا لقب عطا کر دیا، ایسا مطمع نظر اس کو بخشا جس کی کوئی مثال دنیا کے کسی مذہب اور تہذیب میں نہیں ملتی۔جب میں نے اس کی مزید تفصیل بیان کی تو وہی خاتون جنہوں نے بڑی شوخی سے تو نہیں کہنا چاہیے گر اعتماد کے ساتھ یہ جانتے ہوئے، یہ احساس رکھتے ہوئے یہ سوال کیا تھا کہ اس سوال کا کوئی جواب کسی مسلمان کے پاس نہیں ہو سکتا یہ سُن کر نہ صرف یہ کہ اس کا سر جھک گیا بلکہ بعد می تائید میں کھڑی ہوئی اور اس نے کہا آج مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا ہے کہ اسلام عورت کو کیا عزت عطا کرتا ہے اور کیا مقام بخشتا ہے۔یہ خوشخبری بھی ہے اور اندار بھی یہ ایک چھوٹی سی ہدایت ہے لیکن اس کے اندر مثبت رنگ کے بھی اور منفی رنگ کے بھی بہت گہرے مضامین ہیں۔یہ محض ایک خوشخبری ہی نہیں بلکہ انذار کا پہلو بھی رکھتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا عورتوں کے متعلق مردوں کو یہ نیت کرنا یا تمام قوم کو یہ نصیحتکرنا کہ تمھاری جنت تمھاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے ایک بہت ہی معارف کا سمندر ہے جو ایک چھوٹے سے فقرے کے کونے