حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 59

۵۹ اکثر احمدی خواتین چونکہ مشرقی معاشرے سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے آپ اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اپنے گھر کو ایک ماڈل بنانے کی کوشش کریں۔جہاں تک مغرب سے آنے والی احمدی خواتین کا تعلق ہے باوجود اس کے کہ یہاں بہت سی دقتیں ہیں اور انکو اپنا ہی بہن بدلنا اور ایسے لباس پہنا جو ان کی سوسائٹی میں بے وقوفوں والے لباس سمجھے جاتے ہیں مشکل کام ہے لیکن جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے خدا کے فضل سے ان میں سے احمدی ہونے والی اکثر خواتین پر دے کی روح کی تو حفاظت کر رہی ہیں اور اپنے آپ کو سمیٹتی ہیں اور اپنے آپ کو سجا کر چلتی ہیں اور ان کا لاز تارخ غیر اسلامی معاشرے سے دینی۔۔ناقل) معاشرے کی طرف ہو چکا ہے۔آپ کو بھی لازما ان سے زیادہ قدیم ان کی طرف بڑھانے موں گے یعنی ان احمدی خواتین کو جو مشرقی معاشرے میں پلی ہیں اپنی تطہیر کرنی ہوگی بشرق کی گندی عادت میں توڑنی ہوں گی اور ختم کرنی ہوں گی اور دین حق۔۔۔ناقل) کے پاکیزہ معاشرے کو از سرتو قائم کرنا ہوگا کیونکہ میسر نزدیک بھی تک مشرقی دنیا کی احمدی خواتین خالصته ( دین حق کا تال) معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ان تمام بد رسموں کا قلع قمع کرنا ضروری ہے جو ہیں بعض غیر اسلامی معاشروں سے ورثے میں ملی ہیں ، پاکیزہ اور صاف ستھرے ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے سے رشتوں میں منسلک ہو کر ان رشتوں کو تقویت دینے کی ضرورت ہے بجائے اس کے گر گھٹیا اور کمینی باتوں سے ان تعلقات کو مجروح کیا جائے وہ عورتیں جن کو طعن و تشنیع کی لذت کی عادت پڑھاتی ہے۔وہ عورتیں جو نفی کر دار ادا کر کے ا س کی بڑائی کا تصور قائم کرتی ہیں کہ ہم اپنی ہو گئیں ہم نے فلاں کو نیچا دکھا دیا ، وہ ایک گندی قسم کی لذت میں مبتلا ہیں اور یہ لذت ان کو سکون نصیب نہیں کر سکتی۔دن بدن ان کی تکلیفوں میں اور مصیبتوں میں اضافہ ہونا ضروری ہے اور کس کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کی تکلیفوں اور دوسروں کی مصیبتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہوتی ہیں۔وہ نیکی کر کے بھی تو دیکھیں۔وہ خدمت کر کے بھی تو دیکھیں۔وہ پیار سے اپنی بہو کا