حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 58

نہ ہوں بلکہ بہن بھائی کے تعلقات کو تقویت دی جائے ، ماں بیٹے کے تعلقات کو تقویت دی جائے، باپ بیٹے کے تعلقات کو تقویت دی جائے اور رشتے داروں کے دیگر تعلقات کو بھی جو قرآن کر نیم کی اس آیت میں سب شامل ہیں۔(رحمی رشتوں میں میاں کے رحمی رشتے بھی آ جاتے ہیں اور بیوی کے رحمی رشتے بھی آجاتے ہیں اور ایک وسیع خاندان بن جاتا ہے، اس پہلو سے اگر گھروں کی تعمیر کی جائے تو گھر کے اندر ہی انسان کو ایسی لذت محسوس ہوتی ہے کہ بہت سے ایسے بچے جو ایسے خوش نصیب گھروں میں پلتے ہیں ان کو قطعا کوئی شوق نہیں ہوتا کہ سکول سے اگر یا کام سے اگر دوبارہ جلدی سے باہر نکلیں یا Pulis (شراب خانوں کا رخ اختیار کریں یا دوسری گندی سوک ٹیٹیوں میں جو آج کل انسان کو وقتی طور پر لذت دینے کے لئے بنائی جاتی ہیں ان میں جاکر اپنے وقت کو ضائع کرے۔یہی وہ معاشرہ ہے جو در اصل بعد میں شراب کو تقویت دیتا ہے۔جوئے کو تقویت دیتا ہے، ہرقسم کی برائیاں اس معاشرے میں پنپتی ہیں اور نتیجتہ گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔گھر کی تعمیر تو صرف حضرت محمد مصطف صل للہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیم سے ہی ممکن ہے پس گھر آج مغرب میں بھی ٹوٹ رہے ہیں اور گھر آج مشرق میں بھی ٹوٹ رہے ہیں اور گھروں کو بنانے والا صرف ایک ہے اور وہ ہمارے آقا و مولا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و علی الہ وسلم ہیں۔آپ ہی کی تعلیم ہے جو مشرق کو بھی سدھار سکتی ہے اور مغرب کو بھی سدھار سکتی ہے اور آج کی دنیا میں امن کی ضمانت ناممکن ہے جب تک گھروں کے سکون اور گھڑں کے اطمینان اور گھروں کے اندرونی امن کی ضمانت نہ دی جائے۔پس گھروں کی اس تعمیر نو کی فکر کریں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ میں سے