حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 57
کے شوق نے قوم کو پاگل کر دیا اور چونکہ گھروںمیں اس نہیں رہا اور گردو میں دلچسپی نہیں رہی اس لئے ایسے گھروں میں پلنے والے نوجوان گلیوں میں نکلتے ہیں لیکن امن کی تلاش میں نہیں بلکہ لذت کی تلاش میں اور اپنی لذت کی خاطر وہ دوسروں کے امن برباد کرتے ہیں۔یہ Drug addiction نشے کی لت) یا دیگر Pornography (بخش نگاری، فحش فلمیں ہرقسم کی جتنی بھی خرابیاں ہیں ان کی آخری وجہ ہی ہے۔پس اگر چہ گھر توڑنے میں نفرت نے دخل نہیں دیا یا نفرت نے کوئی کردارا دا نہیں کیا مگر گھر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں نفرت ہوئی ہے اور عمل آخر فرت پر بات ٹوٹتی ہے، گھر ٹوٹنے کے نتیجہ میں سارے معاشرہ میں بے اطمینانی اور بے اعتباری اور نفرت کی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور چونکہ لذت یابی کی تلاکش باہر گلیوں میں ہوتی ہے اس لئے قطعاً کوئی احساس نہیں رہتا کہ کسی کو کیا تکلیف پہنچے گی کسی کو کیا دکھ ہو گا۔تھوڑا سا روپیہ حاصل کرنے کے لئے Mugging ازبردستی بھیک مانگنام کرتے وقت بعض دفعہ ہاتھ بھی کاٹ دیئے جاتے ہیں۔پیام کی بات ہے کہ جب میں امریکہ گیا تو اپنی بیوی اور دو بچیوں کو لے کر میں ہارلم دیکھنے گیا۔مجھے وہاں جانے سے لوگوں نے بڑا ڈرایا۔انہوں نے کہا وہاں جاتے ہو، وہ تو بہت ہی خطرناک جگہ ہے۔پھر اوپر سے بیوی اور بیٹیوں نے برقعہ پہنا ہوا ہوگا تو پتہ نہیں زندہ بچ کے آتے ہو کہ نہیں۔میں نے کہا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔مجھے نہیں سمجھ آتی کہ دن دہاڑے کیا ہو گا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک ایسی ہی مشرقی خاتون اپنے ہاتھ میں سونے کا موٹا کڑا پہنے ہوئے جا رہی تھی تو چونکہ اتنا وقت نہیں تھا کہ چھینا جھپٹی کر کے وہ کڑا اتارا جا سکے اس لئے ایک شخص نے تیز چاقو سے اس کی کلائی کاٹ دی اور کڑا زمین پر گرا تو وہ اُسے لے کر بھاگ گیا۔انہوں نے کہا کہ یہاں یہ حالت ہے۔یہ حالت صرف وہاں نہیں بلکہ ہر جگہ یہ حالت بنتی چلی جا رہی ہے اور سفا کی بڑھ رہی ہے۔وجہ یہ ہے کہ گھروں میں امن نہیں۔اگر کسی سوسائٹی میں گھروں میں محبت موجود ہو گھروں میں پیار ہو۔صرف میاں بیوی کے تعلقات یا مرد عورت کے تعلقات ہی لذت کا ذرعیہ