حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 29

۲۹ نہیں دیتی کہ اللہ کی محبت نصیب ہو جائے اُس کا پیار عطا ہو۔اس کی رضا مل جائے۔اس کے نتیجہ میں ہمیں اعلیٰ لذات عطا ہوتی ہیں۔وہ ایسی لذتیں ہیں جن کا عام آدمی تصور نہیں کر سکتا۔کیونکہ عام انسان ان لوگوں کو بعض دفعہ مشقوں میں مبتلا دیکھتا ہے اکثر انبیاء کی زندگی دکھوں میں کشتی ہے۔کچھ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دکھ ہیں جو بہت بڑے ڈکھ ہیں۔کسی شخص پر جتنی ذمہ داری ڈالی جائے اور جتنا خلوص سے وہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔اس کی زندگی اتنی ہی بڑی مشکل میں مبتلا ہو جاتی ہے۔کچھ دکھ ہیں جو غیران پر پھینکتے ہیں۔وہ دشمنی اور نفرتوں کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ان حالات میں انبیا کا زندہ رہنا اور ایسی زندگی سے لذت پانا ایک نا قابل حل معمہ ہے جس کی دنیا کو سمجھ نہیں آیا کرتی حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) اس کا حل یوں پیش فرماتے ہیں سے ہیں تری پیاری نگا ہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا اغم اغیار کا یعنی لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں ، غیروں نے یہ یہ علم کئے ہم توان فلموں کے نیچے لیے گئے ہوں گے مگر فرمایا اے میرے آقا اے میرے محبوب رب ! تیری پیاری نگاہیں ایک ایسی تیغ تیز کا حکم رکھتی ہیں جن سے سارا غیروں کا جھگڑا ، اغیار کی سب مصیبتوں کا جھگڑا کٹ جاتا ہے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو وہاں بھی محبت ہی ہے جو کام آتی ہے محبت رستوں کو آسان کر دیتی ہے۔محبت الہی کی کرشمہ سازیاں ایک شاعر اپنے تجربے کو یوں بیان کرتا ہے کہتا ہے۔دن رات جو ہم محبوب کے کوچوں کے چکر لگاتے ہیں اور وہاں سے مشکے کھاتے ہیں اور دھتکارے جاتے ہیں اور پھر بھی جانا نہیں چھوڑتے اور ٹھوکریں کھاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں پاگل ہو گئے ہو۔لوگ کہتے