حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 15
۱۵ احمدیہ اسی مقصد کی خاطر قائم کی گئی ہے۔جماعت احمدیہ کے لئے سب سے اہم اور سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ تم کیسے نوع انسان کو ان بجھرے ہوئے گروہوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کر دو گے اور کیسے ان کے دل ملانے کی کوشش کرو گے۔اسلام کی نشاہ اولی میں برپا ہونے والا روحانی انقلاب جہاں تک دل ملانے کا تعلق ہے اسلام کے آغاز کی تاریخ میں ہم نے بڑی شدت کے ساتھ کٹے ہوئے دلوں کو ملتے دیکھا ہے ، ایسے قبائل کو اکٹھے ہوتے دیکھا ہے جو ایک دوسے کی جان کے دشمن تھے، جہاں بلا وجہ ایک دوسر کا خون کیا جاتا تھا۔جہاں سوسالہ پرانی بے عزتیوں کے بدلے بعد میں آنے والی نسلوں سے لئے جاتے تھے اور اس انتقام کی آگ کبھی ٹھنڈی نہیں پڑا کرتی تھی۔یہ نظارہ ہم نے آج سے چودہ سو سال پہلے دیکھا کہ وہ بکھری ہوئی منتشر قوم جن کے دل جدا جدا ہی رہتے بلکہ دشمنی اور نفرتوں سے آٹے پڑے تھے وہ اچانک ایک ہاتھ پر اکٹھی ہوگئی اور اکٹھی بھی اس طرح ہوئی کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق وہ محبت کے رشتوں میں باندھے گئے اور ایک دوسر کے بھائی بھائی بن گئے اور بھائی بھی وہ جو ایک دوسر پر جان نشار کرنے والے تھے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو مختلف جگہ بیان فرمایا ہے۔ایک جگہ اس نصیحت کے طور پر فرماتا ہے: ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِيُّ حَمِيمُه (حم السجدة آیت ۳۵) کہ ہم ایک پر و گرم تمھارے سامنے رکھتے ہیں اور وہ پروگرام ہی ہے کہ بدی دیکھو توسن سے اُس یدی کو دور کر د۔نفرت سے اس بدی کو دور کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ بدی تو ایک بدصورت اور بد زیب چیز ہے۔اس کا علاج حسن ہے۔انتظامی جذبے کی یہ تصویر ابھرتی