حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 156

104 وہ کسی کے بھی نہیں رہتے، ان کا سکون بھی گھر میں نہیں رہتا ایسے بچے اکثر آوارہ ہو جاتے ہیں۔اکثر ان کا سکون باہر کی دنیا میں ہوتا ہے اور وہیں وہ زیادہ اطمینان پاتے ہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں میں لیکن بڑے گہرے اثر والی باتیں ہیں۔اپنے لڑکوں کو بیولوں سے نیک سلوک کر نیوالے مرد بنائیں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پاک معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کریں اور عورتوں سے ہیں یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی اور خصوصاً لڑکوں کی تربیت ایسی کریں کہ جب وہ بیٹے ہوں تو وہ اپنی بیویوں سے نیک سلوک کرنے والے ہوں۔آج کی مائیں کل کے مرد پیدا کرنے والی مائیں ہیں جیسے میں نے آپ کو بچوں کی تربیت کی طرف متوجہ کیا ہے اسی طرح میں یہ آخری پیغام آپ کو دینا چاہتا ہوں۔ایک دفعہ پہلے بھی اس مضمون پر میں نے خطبہ دیا تھا کہ آخری شکل میں تو میں یہ نظر آتا ہے کہ مرد عورت پر ظلم کر رہا ہے لیکن جب انس کے بچپن میں جا کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ماں نے لڑکوں کی تربیت ایسی کی ہے کہ اُن کو خدا بنا دیتی ہیں ان کو متکبر کر دیتی ہیں۔اُن کے نخرے زیادہ اُٹھاتی ہیں اور لڑکیوں پر ان کو فضیلت دیتی ہیں یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ان کو پاگل بنا دیتی ہیں۔وہ مائیں ہی ہیں جن کی غلط تربیت بعد میں عورتوں کے سامنے آتی ہے گویا فی الحقیقت آخری شکل میں عورت عورت پر ظلم کر رہی ہے۔ہمیشہ ایسے گھر جہاں لڑکے کو خدا بنایا جارہا ہو اور اس کو لڑکیوں پر فضیلت دی جارہی ہو۔اس کے سب نخرے برداشت کئے جارہے ہوں اس کو سب چھٹیاں دی جارہی ہوں۔ایسے لڑکے جب بڑے ہو کر مرد بنتے ہیں تو ہمیشہ دوسری لڑکیوں کے لئے ایک مصیبت بن جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کا انداز تربیت حضرت مصلح موعود الله