حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 144

۱۴۴ ہے اور آپ ماؤں سے بڑھ کر اور کون جانتا ہے۔آپ کی فطرت میں خدا نے یہ بات رکھ دی ہے اور دین حق۔۔۔ناقل) کو ایسی ماؤں کی ضرورت ہے جو اس رنگ میں اپنی اولادوں کی تربیت کریں۔بچے کے لئے ماں کا سب سے اچھا ورثہ تقویٰ ہے آج کے دور میں پیدا ہونے والے بچوں پر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آئندہ نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے۔کثرت کے ساتھ لوگ داخل ہو رہے ہیں۔صرف زبان کی بات نہیں ہے۔اپنے اعمال سے اپنی تنظیم اور نظم وضبط کے ذریعے احمدیوں کو ایسے نمونے بنانے پڑیں گے جن کے نتیجے میں ہر دیکھنے والا ان نمونوں سے متاثر ہو اور ان کے ساتھ رہنا ہی ان کی تربیت کا موجب بن جائے۔پیس ایسے اچھے بچے پیدا کرنے کے لئے آپ کو اچھی ماں بننا ہوگا۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ اچھی مائیں بہنیں اور اپنے بچوں کے لئے دعائیں کرتی ہیں اور دعائیں منگواتی رہیں کہ ان کو خدا اچھا بنا دے۔ایسی مائیں جو دنیا کی ہوچکی ہوتی ہیں جن کی تمنائیں دنیا کے لئے وقف ہو جاتی ہیں ، جن کی خواہشات دُنیا کی زندگی کے لئے وقف ہو جاتی ہیں بعض دفعہ ان کے دل میں بھی دین کی محبت ہوتی ہے اور پہلی منزل پر وہ نہیں بجھتیں کہ ہمارا رخ کس طرف ہے۔دل میں بچپن سے یہ بات داخل کی جاچکی ہے اور جاگزین کی جا چکی ہے کہ دین دُنیا پر غالب رہنا چاہیے چنانچہ وہ اپنے بچوں کے لئے دین ہی مانگتی ہیں اور دین کی دعائیں کرتی ہیں اور جب بھی موقعہ ملے وہ لکھتی بھی ہیں لیکن خود وہ دنیا کی ہو چکی ہوتی ہیں۔ایسی ماؤں کے بچے بالآخر ہا تھوں سے ضرور نکل جاتے ہیں کیونکہ بچوں کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ ذہانت رکھی ہے کہ اپنے ماں باپ کے اصل مدعا کو پہچان لیتے ہیں۔اگر ماں باپ ان کو کہیں کہ اچھے بند پہنچے بنو نیک بنوا اور خود جھوٹ بول رہے ہوں، خود وقت ضائع کر رہے ہوں، خود خواہشات دُنیا کی ہوں تو بچے خاموش بھی رہیں گے تو دل ان کا بتا رہا