حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 143

۱۴۳ بچوں میں دینی محبت کی جارحیت پیدا کریں پس جن ملکوں میں ہم خدمت دین کے لئے نکلے ہیں جن تہذیبوں سے ہمارا واسطہ ہے ان کا زہر بہت گہرا ہے اور اس سے اپنی اولاد کو بچانا ہمارے اولین مقاصد میں سے ہونا چاہیئے اور یہ حفاظت دفاعی طور پر نہیں ہوسکتی بلکہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ یہ ایک قسم کی جارحیت اختیار کریں اور وہ جارحیت کوئی ظالمانہ یاد شمنی والی جارحیت نہیں ہے بلکہ ایسی جاریت ہے جیسے ماں اپنی محبت میں اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔وہ جارحیت محبت کے نتیجے میں ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک بے انداز قوت پیدا ہو جاتی ہے، بہت بڑی دلیری پیدا ہو جاتی ہے۔محبت کے نتیجہ میں جو جارحیت ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔آپ میں سے وہ لوگ جنہوں نے پنجاب میں یا ہند و پاکستان میں یا کہیں اور دیہاتی علاقے میں تربیت پائی ہے انہوں نے بارہا اپنے گھروں میں دیکھا ہو گا کہ مرغیاں ہیں جن کے چھوٹے چھوٹے چوڑے ہوتے ہیں لیکن مرغی کی طبیعت میں چونکہ جارحیت نہیں بلکہ ایک خوف زدہ سا معصوم سا جانور ہے اور ہر چیز سے بھاگ جاتا ہے جبکہ بلی کی طبیعت میں جارحیت ہے، کتے کی طبیعت میں جارحیت ہے لیکن جب چھوٹے بچوں پر کتا یا بھی حملہ کرتے ہیں تو میں نے دیکھا ہے کہ مرغیاں اس طرح بھر کر ان پر پڑتی ہیں اور اس قدر طبیعی جوش ان کے اندر پیدا ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ دیکھا ہے اور میں حیرت زدہ رہ گیا کہ کتا اسی بھری ہوئی مرغی سے ڈر کر بھاگ گیا کیونکہ اس کی فطرت کو یہ معلوم تھا کہ محبت کی جارحیت کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔یوں لگتا ہے اس کے اندر ایک شیر تھا جو بیدار ہو گیا تو دین حق۔۔۔ناقل) کے لئے اپنے بچوں میں ایسی جارحیت پیدا کریں جو محبت کی جارحیت ہے اور اگر آپ یہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو آپ یقین رکھیں کہ آپ کی اولاد ہمیشہ مخالف ماحول پر غالب رہے گی۔کوئی دنیا کی طاقت اسے مغلوب نہیں کر سکے گی کیونکہ واقعہ محبت کی جارحیت جیسی کوئی اور قوت نہیں