حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 142
کی آئندہ حفاظت کرے گا۔انہیں مسیح رستے پر قائم رکھے گا۔اُن کے اندر یہ احساس رہے گا کہ ہم عام لوگوں سے مختلف اور ایک خاص اعلیٰ مقصد کی خاطر پیدا کئے گئے ہیں۔اسی قسم کا جذبہ باقی بچوں میں بھی پیدا کرنا چاہیے خواہ وہ وقف نہ ہوں۔کیونکہ یہ جذبہ انسان کے اندر ایک محافظ پیدا کر دیتا ہے۔ایک بیرونی محافظ ہوا کرتا ہے جو ماں باپ کی نصیحتیں ہیں یا ماحول کی نصیحتیں ہیں۔یہ بیرونی محافظ ہمیشہ انسان کا ساتھ نہیں دیا کرتے لیکن ایک اندرونی محافظ ہوتا ہے جو اپنے ضمیر سے اٹھتا ہے۔اس کی آواز بڑی طاقت والی ہوتی ہے۔اس کا سب سے زیادہ اثر انسان کے اوپر پڑتا ہے۔اگر آپ اس بڑے ماحول سے اپنی اولاد کو بچانا چاہتی ہیں تو ہر ایک کے ضمیر سے اُس کے محافظ کو جگا دیں جسے خدا نے ہر ضمیر میں رکھا ہوا ہے اور اُس کے اندر ایک لگن پیدا کر دیں ایک جذبہ پیدا کر دیں ، ایک احساس برتری پیدا کریں کہ تم زیادہ اعلی کاموں کی خاطر پیدا کی گئ ہو۔تم اعلیٰ مقاصد کے لئے بنائی گئی ہو۔تم نے دنیا کے حالات بدلنے ہیں۔دنیا کے پیچھے نہیں لگتا بلکہ دنیا کو اپنے پیچھے چلانا ہے۔اس قسم کا کا احساس اگر بچپن میں پیدا کر دیا جائے تو بعد میں ایسے بچے خواہ کسی سکول میں جائیں خواہ ماں باپ کی نظر سے دور بھی ہٹ جائیں۔تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُن کے ضمیر کا وہ محافظ اور نگران ان کو ہمیشہ صحیح راستہ پر قائم رکھتا ہے اور ایسے بچے ہمیشہ اپنے سکولوں میں، اپنے ماحول میں تبلیغ کرتے رہتے ہیں اور پھر گھر اگر اپنے ماں باپ کو شاتے ہیں کہ آج یہ بات ہوئی اور ہم نے یہ جواب دیا اور پھر جب ملاقاتوں کے وقت یہ مجھے اپنی باتیں سناتے ہیں تو بعض دفعہ میں حیران رہ جاتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالے ان کو روشنی عطا کرتا ہے دفعہ بالکل معمولی علم کے بیچے بھی جب اسلام کی خاطر کسی مد مقابل سے حتی کہ بعض دفعہ اپنے استادوں سے مکرلیتے ہیں تو خدا تعالے ایسی ایسی باتیں ان کو سمجھاتا ہے کہ اُن کا دل روشن ہو جاتا ہے اور اس تجربہ کے نتیجہ میں انکا اسلام سے اور بھی زیادہ تعلق بڑھ جاتا ہے۔