حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 141

۱۴ ایک فائدہ آپ کو اس کا یہ ہو گا کہ جن بچیوں کو آپ اس پہلو سے (ابھاریں) Motivate کریں گی ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا کریں گی کہ تم خدمت دین کے لئے روسی زبان سیکھو اور اس میں مہارت پیدا کرو، ان کو دیگر ابتلاؤں سے بھی آپ محفوظ کر دیں گی کیونکہ جن بچیوں کو شروع سے ہی ایک اعلیٰ مقصد کی لگن ہو جائے ایک اعلیٰ مقصد کی جستجو ہو جائے وہ ارد گرد کے گندے ماحول سے پھر اثر پذیر نہیں ہو تیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کو اپنے مقصد کی لگن میں اتنی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور ایسی لذت آنے لگتی ہے کہ وہ دنیا کی دوسری لذتوں کو نسبتاً حقیر سمجھے لگتی ہیں اور غیر ماحول سے کم متاثر ہوتی ہیں۔اپنی بچیوں پر دینی ذمہ داریاں ڈالیں اس سلسلہ میں اب دوسری بات میں یہ کہوں گا کہ اپنی بچیوں کی حفاظت کی خاطر شروع ہی سے ان کے اوپر دینی ذمہ داریاں ڈالنا شروع کر دیں ان کے سپرد کوئی ایسے اعلیٰ درجہ کے کام کر دیں جن کے نتیجہ میں ان میں ایک احساس پیدا ہو کہ ہم بہت عظیم خواتین ہیں ہم خاص مقاصد کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ہم نے بڑے بڑے کام دُنیا میں سرانجام دیتے ہیں۔یہ احساس ہے جو بہت سی بدیوں سے انسان کو بچاتا ہے۔اور بچپن ہی میں اس احساس کا پیدا کرنا ضروری ہے۔اب میری فیملی ملاقاتیں ہوتی ہیں، ان میں میں نے دیکھا ہے جو بچے وقف نو میں شامل ہیں ان کی مائیں جب ان کا تعارف کراتی ہیں تو ان کے اندر ایک اور اپنائیت کا جذبہ ہوتا ہے۔معلوم ہوتا ہے بچپن سے وہ ان کے کانوں میں ڈال رہی ہیں کہ تم وقف ہو تم وقف ہو تم ہمارے نہیں تم جماعت کے ہو گئے ہو تو بعض بچے اس جوش کے ساتھ آئے گلے سے چھٹ جاتے ہیں اور یہ بناتے ہیں کہ ہم آپ کے ہو چکے ہیں ، یہ ماں باپ تو اتفاقاً ہمارے ماں باپ ہیں مستقل ہم آپ کے ہیں اور ایسا معصومانہ پیار کا جذبہ اُن سے بے ساختہ پھوٹتا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی جذبہ ہے جوائن