حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 134

۱۳۴ سے رابطہ کر سکوں۔ایک لاکھ چائیس ہزار مسلمان قرق وہاں موجود ہیں لیکن الا ما شاء الله تمام کے تمام بے دین ہو چکے تھے۔ایک بھی مسجد وہاں ہاتی نہیں رہی تھی۔کلیتہ اسلام کے نشانات وہاں سے مٹادیئے گئے تھے۔بہت ہی درد ناک تصویر تھی جو انہوں نے میرے سامنے کھینچی لیکن مجھے یہ معلوم کر کے افسوس بھی ہوا کہ ان کے رحجانات تیل کی دولت کی طرف زیادہ ہیں اسلام کی طرف کم ہیں چنانچہ کچھ ایسے اشارے کرتے رہے جن سے میں سمجھا کہ ان کی ضر در تیں ہم سے پوری نہیں ہو سکیں گی۔اُن سے میں نے کہا ، دیکھیں ! اگر تو آپ کو دنیا کی دولت چاہیے تو آپ غلط جگہ آگئے ہیں۔آپ ایران جائیے۔آپ سعودی عرب جائیے۔انڈونیشیا جائیے۔لیبیا سے رابطہ کریں۔دولت تو ملے گی دین نہیں ملے گا اور انسانی قدریں نہیں ملیں گی۔اسلام اگر ملا بھی تو ام کا وہ اسلام ملے گا جو تاریک زمانوں کا اسلام ہے حضرت محمدرسول اللہصلی الہ علیہ ولی ال وستم کے روشن زمانے کا اسلام نہیں ہلے گا۔اب آپ کی مرضی ہے کہ کون سا رستہ اختیار کرتے ہیں۔بہر حال واپس جاکر انہوں نے ایک وعدہ پورا کیا اور میرے نمائندہ کو آنے کی دعوت دی۔وہ جب اس علاقے میں پہنچے جہاں سے وہ لیڈر نمائندہ منتخب ہوئے تھے تو ان لوگوں کی طرز عمل بالکل مختلف تھی۔وہ واقعہ اسلام کے پیاسے تھے اور چاہتے تھے کہ کوئی ان کی راہنمائی کرے کیونکہ اس سے پہلے میں روسی زبان میں ایک محبت بھرا پیغام اہل روس کے لئے لکھ چکا تھا۔وہ اسے ساتھ لے گئے اور اسے پڑھنے کے بعد بہت تیزی سے اُن لوگوں کے اندر دلچسپی پیدا ہوئی۔وہاں سینما ہال کے سوا کوئی بال نہیں ہوتے جہاں لیکچرز ہوں تو چونکہ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر خود دلچسپی لے رہے تھے اس لئے انہوں نے ہمارے نمائندہ کی سینما ہال میں تقریر کرائی اور وہاں سب نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر تائید کی کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ان کو اس نمائندہ نے مطلع کر دیا کہ تمہارا ایڈر دوسری طرف رحجان رکھتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات کو برا منائے کہ تم ہم سے تعلق قائم کر ولیکن انہوں نے کہا کہ ہم نے اُسے لیڈر چنا ہے، اگر وہ ہماری مرضی کے مطابق ہے