حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 122
; ۱۲۲ پا گر وہ شکایت نظام کو نظرانداز کر کے آئی ہے تو آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ اس ک رد کر دیں اور لکھنے والے کو مجبور کریں کہ وہ نظام کا توسط اختیار کرے لیکن آپ اس بات کے پابند نہیں ہیں۔کہ چونکہ اس نے نظام کا توسط اختیار نہیں کیا۔اس لئے آپ کوئی بھی قدم نہ اٹھائیں اور کسی معاملہ میں بھی تبین نہ کریں۔بعض شکائتیں اس نوعیت کی ہوتی ہیں کہ وہ نظام کی معرفت نہ بھی پہنچی ہوں تو بھی تحقیق ضروری ہوتی ہے۔انصاف کا تقاضا صرف یہ ہے کہ اُس وقت تک کوئی قدم نہ اٹھایا جائے اور دل کو اُس وقت تک کوئی اثر قبول نہ کرنے دیا جائے جب تک کہ دو کہ فریق کی بات نہ سن لی جائے۔نظام جماعت کی روح کو نہ سمجھنے کا نقصان پس اس تین اور محبت کا فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے اور نظام جماعت کی روح کو نہ جھنے کی وجہ سے بعی دعدلیہ کی عہدیدار بھی عجب عجیب ترانہ باتیں کرتی ہیں جو درحقیقت ایک تمسخرین جاتا ہے۔جب پچھلی دفعہ میں جرمنی آیا تو ایک فیملی کے ساتھ ملاقات کے دوران مجھے سے بات کرتے کرتے ایک بچی روپڑی حتی کہ اس کا نروس بریک ڈاؤن ہونے والا ہو گیا۔میں نے پتہ کرنا چاہا کہ اُسے کیا تکلیف پہنچی ہے، تو پہلے تو وہ بولتی ہی نہ تھی لیکن جب میں نے اس سے کرید کرید کر پوچھا تو اس نے کہا کل میری بہت ہی بے عزتی ہوئی ہے اور اس بے عزتی کی ذمہ دار لجنہ ہے میں نے پیش آنے والے واقعہ کی تفصیل پور بھی تو اس نے بتایا میں بینہ کے ایک مقابلہ میں اول آئی تھی تقسیم انعامات کے وقت جب میرا نام پکارا گیا اور میں بیگم صاحبہ سے انعام لینے آئی اور میں نے انعام حاصل کرلیا تو لجنہ کی عہدیدار نے بڑی سختی سے سے سے مزید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ انہوں نے سختی سے ہرگز نہیں کہا تھا۔نہایت آرام سے اور نرمی سے بات کی تھی مگر وہ بھی بے وجہ جذباتی ہوکر شرمت سے زیادہ ردعمل دکھاگئی۔اس لئے جن کی عہدیداروں پر اس تبصرہ کو محض نصیحت کے طور پر لینا چاہئے منفی ریمارکس کے طور پر نہایا جائے۔(ارشاد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ)