حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 121

۱۲۱ شکایت کی گئی ہے۔ایک ہی دفعہ میں وہ طرفین کی باتیں سن کر کسی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔نظام کا یہ دستور صرف عہدیداروں کے متعلق ہے لیعنی جب کسی عہدیدار کے خلاف کسی کو شکایت ہو تو وہ اس عہدیدار کی معرفت شکایت بھیجے ورنہ افراد جماعت ہر قسم کی بات براہ راست خلیفتہ ایسے کو لکھ سکتے ہیں اور سکھتے ہیں۔نظام کا تقاضا ہرگز یہ ہیں ہے کہ ہمیشہ امیر کی عرف چھیاں پہنچا کریں۔ایک خاتون ، ایک مرد ایک بوڑھا ، ایک بچہ جو کچھ بھی دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اپنے خطوں میں معصومانہ طور پر اس کا اظہار کرتا رہتا ہے۔اس طرح دنیا بھر سے موصول ہو تے والے خطوط کے ذریعہ خلیفہ اسی کو معلوم ہوتا رہتا ہے کہ ہر جگہ عام طور پر کیا ہو رہا ہے۔اس طرح بر اور است خط لکھنے میں کوئی روک نہیں ہے اور نہ ایسا کرنا نظام کے خلاف ہے لیکن اگر ایک شخص اُس عہدیدار کو نظر انداز کر کے جس کے خلاف اُسے شکایت ہے براہ راست اپنی شکایت پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تواس کو کہتے ہیں کہ اس کا ان امام مراعات کے خلاف ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ براہ راست شکایت کی صورت میں جین تک شکایت پہنچائی گئی ہے اسے ایسی صورت میں تحقیق کرنے کا حق نہیں ہے۔اس کا تحقیق کا حق اپنی جگہ قائم ہے اور وہ حق قرآن کریم نے تین کی آیت کے تحت اس کو دیا ہے۔جو نظام جماعت قرآن پر مبنی ہو اس کا ہی دستور العمل ہو گا۔بسا اوقات میں ایسے لوگوں کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کا براہ راست شکایت کرنا درست طریق نہیں ہے۔آپ امیر کی معرفت یا صدر لجنہ کی معرفت یا جو بھی متعلقہ مدیدار ہے اس کی معرفت بھجوائیں اور یہ کہ میں اس وقت تک قدم نہیں اٹھاؤں گا جب تک یہ شکلیت مقررہ طریق کے مطابق نہ پہنچے۔لیکن بعض دفعہ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ یہ معاملہ اس نوعیت کا ہے کہ بجائے اس کے کہ شکایت کنندہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی شکایت متعلق صدیدار کی معرفت بھیجے میں براہ راست متعلقہ عہدیدار یا صدیداروں سے پوچھ لوں۔ایسا کرنا نظام حجامت کے خلاف نہیں ہے اور یہ حتی آپ سب عہدیداران کو بھی حاصل ہے۔یہ صحیح ہے کہ اگر کسی کے متعلق کوئی شکایت ملتی ہے تو یکطرفہ رائے کو قبول کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔مثال کے طور