حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 120

اس نے از خود افتراء سے کام لے کر ایک بات گھڑی دور نہ بات تھی کوئی نہیں۔دونوں صورتوں میں وہ سزا کی مستحق ہے۔اگر نظام اس طرح دخل دے اور کارروائی کرے تو سیع اور جھوٹ میں تمیز ہو جائے گی اور پتہ لگ جائے گا کہ بات صحیح ہے یا غلط۔ایسی سوسائٹی میں جہاں نظام فوراً حرکت میں آئے بدی پھیل نہیں سکتی۔ایسی باتوں کی بیخ کنی کے لئے ضروری ہے کہ بین اختیار کیا جائے لیکن اس امر کو کبھی فراموش نہ کیا جائے کہ تین پنجتن سے بالکل مختلف چیز ہے تجتس یہ ہے کہ آپ لوگوں کے ایسے ذاتی معاملات میں بلا وجہ مداخلت کریں جو باہر نہیں نکلے جنہوں نے از خود نشاء کا رنگ اختیار نہیں کیا اور جو گلیوں میں کھل کھیلنے کے مقام تک ابھی نہیں پہنچے۔مداخلت یہ ہے کہ آپ از خود کسی مرد یا عورت کے متعلق شک ری که در پردہ یہ ضرور ایک کو تا یا کرتی ہوگی آپ اس بات کے تجسس میں لگ جائیں اور تاک لگا کر بیٹھی رہیں اور کرید کرید کر اندر کی بات معلوم کرنے کی کوشش کریں۔بی جستن ہے جو کلیہ السلام میں منع ہے۔ہر انسان کی ایک پرائیویسی ہے۔اس پر خدا تعالیٰ کی شادی کا پردہ ہے۔خدا کی ساری کے پردے کو پھاڑ کر اندر جھانکنے کی آپ کو اجازت نہیں ہے۔لیکن جس نے خود یہ پردہ اتار پھینکا ہے ، جو بے حیائی کے مقام تک پہنچ گیا ہے، جو ایسی حرکتیں کرتا ہے جو باہر سے نظر آنے لگی ہیں وہاں بین نہ کرنا بھی جرم ہے۔وہاں تحقیق ضروری ہے۔یعنی یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔تحقیق کے سلسلہ میں جماعت کا عام دستور اس سلسلہ میں جماعت کا عام دستور ہی ہے کہ اگر کسی معاملہ میں کوئی عہدیدار ملوث ہو تو اس کی شکایت اس کی معرفت کی جائے تاکہ اس کو ساتھ ہی اپنے دفاع کا بھی موقع مل جائے۔دو کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ جس نے شکایت سننی ہے اس کا وقت بھی جائے۔بجائے اس کے کہ شکایت سننے والا معاملہ کو اُس عہدیدار کے پاس دوبارہ بھیجے جس کے خلاف