حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 119
کہ یہ بہت خطرناک بات ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کے نتیجہ میں تجسس پیدا ہوتا ہے جس سے خدا نے منع کیا ہے ، جو شخص عام پبلک میں ایسی باتیں کرتا ہے جو اشاعت فشار کے ذیل میں آتی ہیں اُسے خدا تعالی نے فاسق قرار دیا ہے۔اُس نے بہت بہی حکیمانہ لفظ کا انتخاب فرمایا ہے یہ کہہ کر کہ جب تمہارے پاس کوئی فاسق باتیں کرے تو تحقیق کرلیا کرو۔اس کے دو مطلب ہیں ایک تو یہ کہ عام طور پر فاسقوں میں ایسی باتیں کرنے کا رحجان پایا جاتا ہے شرفاء میں یہ رحجان نہیں ہوتا، ہوتا بھی ہے تو بہت کم اور برائے نام۔دوکر جہاں تک اتھارٹیز ر صاحب اختیار کمیتیوں کا تعلق ہے یعنی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کے نمائندگان تک جب ایسی بات پہنچے تو قرآن نے ان کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ ان کو یہ تمیز کرنی چاہیئے کہ بات پہنچانے والا کون ہے کیونکہ ان کو تو بات پہنچانے والے فاسق بھی ہوں گے اور صالح بھی ہوں گے۔اس لئے فرمایا جہاں صالحین کی طرف سے بات پہنچے زیادہ یقین کے ساتھ اس پر کاروائی ہونی چاہیئے۔اور جب بند کر دار لوگ ان تک کوئی بات پہنچائیں تو کسی قسم کے سے پہلے پوری تحقیق کر لیا کریں تاکہ اس ضمن میں کوئی معصوم بلا وجہ مصیبت کا نشانہ نہ بنے۔یہ ہے اسلامی تعلیم جس کو تبین کہتے ہیں۔پس جہاں بھی لجنہ کی کسی عہدیدار تک کوئی ایسی بات پہنچتی ہے تین اس پر فرض ہو جاتا ہے۔قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ تین کرو اور تین کے سلسلے میں جیسا کہ اردو میں کہا جاتا ہے جھوٹے کو گھر تک پہنچانا چاہیئے جو عورت ایسی بات کرتی ہے اُسے وہیں پکڑ لینا چاہیئے کہ تم نے بات خود گھڑی ہے یا کسی سے سنی ہے ؟ اگر سنتی ہے تو بتاؤ کس سے سنی ہے ؟ درنہ میں تمہارا نام لے کر نظام کو اس کی اطلاع دوں گی اور عہدیداران کو بتاؤں گی کہ تم نے یہ بات پھیلائی ہے اور تم کسی کا نام نہیں تیار ہیںکہ جس سے تم نے یہ بات سنی ہو اس کو تین کہتے ہیں۔پس اگر وہ عورت تحقیق کے دوران نام نہ بتائے تو وہ اس بات کی مجرم ہے کہ اس نے فحش کو پھیلایا اور اس کو روکنے میں سلسلہ کی مدد نہیں کی۔یا پھر وہ مجرم ہے اس بات کی کہ