حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 116
114 اور فرق کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اُس فرق کو واضح کرنے کے بعد میں اس خطاب کو ختم کردیں گا۔جہد تک اس فرق کا تعلق ہے بعض ایسی باتیں ہیں جو تفصیل سے سمجھانی ضروری ہیں ورنہ آپ کے عہدیدار ہوں یا دو سے سننے والے وہ بعض اوقات بعض با یک فرقوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی کر جاتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ اسلامی نظام اس تفصیل سے نافذ ہو کہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ہر شخص کو پتہ ہوکہ جو کچھ وہ کر رہا ہے اس کے حق میں کیا دلائل ہیں پھر دلائل ہوں بھی اتنے مضبوط کہ وہ غیروں کو خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم سمجھا سکے اور مطمئن کرا سکے کہ اسلام جو بھی تعلیم دیتا ہے اس میں حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔اس میں کوئی جبر نہیں کوئی زبردستی نہیں، کوئی جاہلانہ بات نہیں بلکہ کمال بالغ نظری پر مبنی نہایت اعلیٰ تعلیم ہے اور ایسی بے نظیر تعلیم ہے کہ بنی نوع انسان کے لئے اسے اپنانے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں۔جہاں تک حالات سے آگاہی کی غرض سے جستجو کرنے کا تعلق ہے اس کی جائز حدود کو سمجھنا ضروری ہے۔اس بارہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام محبت کی اجازت نہیں دیتا۔لوگوں کے ذاتی معاملات کے بارہ میں بلاوجہ نیت کرنے اور کرید کرید کر حالات معلوم کرنے کے وہ خلاف ہے۔قرآن کریم کی ایک واضح ہدایت ہے کہ ولا تجسسوا یعنی ہر گر جس سے کام نہ لوا لوگوں کے ذاتی معاملات میں بے جا مداخلت نہ کرو اور بلا وجہ توہمات کا شکار ہو کر بیب جو کرنے کی کوشش نہ کرو کہ کوئی چھپ کر کیا کرتا ہے۔اس کو تخت کہا جاتا ہے تجسس منع ہے اور اس کی اجازت نہیں ہے۔لیکن ایک اور حکم ہے اور وہ سے تین کا حکم فرمایا ، إِذا جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاءِ فَتَبَيَّنُوا کہ جب بھی کوئی فاسق خبر پہنچائے تو تین کر لیا کر ولیعنی اس خبر پر یقین کر لینے کی بجائے اس کی تحقیق کر لیا کرو اب تین اور تیس میں بہت بڑا فرق ہے۔میں جو ہدایت دے رہا ہوں و تجسس کی نہیں دے رہا بلکہ تبتین کی دے رہا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں خواتین میں اندر ہی اندر باتیں ہوتی ہیں