حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 91

سے پیچھے مسلمان خواتین کے نیچے تھے انہوں نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان مجاہدین اپنے خیموں کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں تو محمد مصطفے صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک سہنی غلام عورت نے اپنی ساتھیوں کو کہا کہ تم اپنے خیموں کے ڈنڈے اکھیڑ لو اور ان مردوں کو یہ بتا دو کہ اب تمھارے لئے دو موتوں میں سے ایک لاز کا مقدر ہے یا دشمن کے ہاتھوں مارے جاؤ گے اور شہید کہلاؤ گے یا ہمارے ڈنڈوں سے مر کر مردود موت کو قبول کرو گے اب بتاؤ تمہیں کیا کرنا ہے۔یہ آواز جب مردوں کے کان تک پہنچی تو اس طرح پلٹے ہیں جس طرح کوئی بھوکا غذا کی طرف لوٹتا ہے اور اس شان کے ساتھ انہوں نے اس میدان میں جانیں دی ہیں کہ اس میدان کا یکسر پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔اس ذلت ناک شکست کو ایک عظیم فتح میں تبدیل کردیا پس اے احمدی خواتین ! میں تم سے توقع رکھتا ہوں، خدا کا رسوں تم سے توقع رکھتا ہے، کہ تم اس بات کی پروا نہ کرو کہ مر تمہیں کیا کہتے ہیں بلکہ تم ہر اس نیکی کے میدان میں جس میں مرد غافل ہو رہے ہیں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ہر نیکی کے میدان میں نئی فتوحات حاصل کرو یہاں تک کہ تمھارے مردوں میں بھی غیرت جاگ اُٹھے اور وہ بھی دین کی حیثیت میں اور دین کے دفاع میں تم سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اگر تم ایسا کرو تو ہندوستان چند صدیوں کی بات نہیں چند دھاگوں میں اسلام کے قدموں میں پڑا ہوا ہوگا۔اور اس فتح کا سہرا تمہارے سر پر لکھا جائے گا۔اے احمدی خواتین !تمہارے سر پر اس کا سہرا ہو گا۔اسے احمدی خواتین !