حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 90

رونا کرسکتی ہیں۔آپ کی بھتی ہیں۔آپ گھروں میں بٹھائے رکھنے والی عوز میں ہیں ؟ آپ کو میدان جہاد حب اپنی طرف بلا رہا ہو تو دنیا کا کوئی مولوی اگر اس کے خلاف فتوی دے تو آپ اس کے منہ پر آپ تھوکیں بھی نہیں۔اس کی قطعاً پرواہ نہ کریں۔احمدی خواتین کو بیکار کرنے کے لئے قرآن کریم میں کہیں کوئی تعلیم نہیں ہے۔احمدی یعنی (ایمان لانے والی۔۔ناقل) خواتین سے اللہ تعالیٰ ہر صحت مند میدان میں مردوں سے آگے بڑھنے کی توقع رکھتا ہے۔کیونکہ مسلمانوں کو برابر یہ مطمع نظر عطا کیا گیا کہ بِكُلّ وَجْهَةُ هُوَ مُوَتِيْهَا فَاسْتَبِقُوَ الْخَيْرَاتِ۔(سورۃ البقرہ آیت ۱۴۹) اب دیکھیے ! آپ ذرا غور تو کریں ! یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے مردوں کے لئے ایک مطلع نظر مقر فرمایا ہے۔لفظ اتنے خوبصورت استعمال کئے ہیں جو ہر شخص پر برابر چسپاں ہوتے ہیں۔فرمایا ، لكل رجمة : بر شخص کے لئے ہم نے ایک مطمع نظر رکھ دیا ہے۔ہر قوم کے لئے ایک مقصود بنا رکھا ہے اور اسے محمد مصطف صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے غلامو تمہارے لئے مقصود یہ ہے کہ تم نے ہر حال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔پس اگر آپ اس گلی میں داخل ہیں اوریقینا اس کی میں دخل ہیں تو نیکی کے میدان میں مردوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا خدا کی طرف سے بطور راضیہ آپ پربند کر دیاگیا ہے پس اگر دعوت الی اله ناقل) کے میدان میں مرد پیچھے رہ رہے ہیں تو اُن کو پچھے چھوڑ دیں اور آپ نکلیں اور اس ملک میں دین حقی۔۔ناقل) اور احمدیت کا سچا نور پھیلانے کی ذمہ داری اپنی ذات کے لئے قبول کرلیں۔میں نے اس سے پہلے ایک خطاب نہیں یہاں عورتوں کو تاریخ اسلام کی ایک درخشندہ مثال بنائی تھی وہ آپ کو بھی بتاؤں گا اور اس کے بعد پھر آپ سے اجازت چاہوں گا۔ایک ایسا موقعہ آیا تھا جبکہ میدان جنگ سے مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑ گئے۔بعض دفعہ ایسا مجبوری کی حالت میں بھی ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ دشمن کی طرف سے ایسا ریلا آتا ہے کہ جان دینے کی خواہش رکھنے والے بھی اس کو سنبھال نہیں سکتے اور ان کے پاؤں اکھڑ جایا کرے ہیں بس اُن پر الزام کی صورت میں میں بات نہیں کر رہا ، ایک واقعہ آپ کو بتاتا ہوں کہ ان