حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 86
A4 یا وہی پہلے والا حال ہے۔اس نقطہ نگاہ سے یکی ایک مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ علمی اور تربیتی لحاظ سے جو پروگرام دیے گئے ہیں ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ ہندوستان نے کیا کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں۔جہاں تک تربیت کا تعلق ہے۔بھارت میں قرآن کریم ناظرہ جاننے والی احمدی خواتین کی تعداد ۸۱۹ ۲ تھی۔اس ایک سال میں آپ اندازہ کریں کہ کتنی بہی اور تفصیلی محنت سے کام لیا گیا ہوگا کہ اب یہ تعداد بڑھ کر ۳۳۵۲ ہو چکی ہے۔ایک سال کے عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی زیادہ خواتین کو جو پہلے قرآن نہیں جانتی تھیں قرآن سکھانا ایک بہت ہی عظیم سعادت ہے اور یہ جنت بنانے کا دوسرا پہلو ہے۔پہلا پہلو تھا منفی اثرات سے اپنی اولاد کو بچانا۔دوسرا پہلو ہے ایسی مثبت باتیں عطا کرنا جن کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُن کے مستقبل کی حفاظت ہو گی اور وہ یہ طریق ہے کہ بچپن ہی سے قرآن کریم کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں حضرت محمد رسول اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت ان کے دل میں پیدا کریں۔خداتعالی کا گہرا پیار ان کے دل میں جاگزیں کر دیں کیونکہ اسی کے پیار سے پھر باقی سب پیار چھوٹتے ہیں۔خدا سے سچا پیار ہو تو ہر خدا والے سے پیار ہو جاتا ہے۔خدا والوں سے پیار ہو تو ان کی عادات اپنانا زندگی کا ایک بہترین مشغلہ بن جاتا ہے۔پس ٹھوس تربیت کا مطلب محض نیک نصیحت کرنا نہیں بلکہ عملاً کچھ پیدا کر کے دکھانا چاہئے۔پس وہ احمدی خواتین جن کے گھرمیں قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کی عادت نہیں اس پہلو سے وہ گھر ویران ہیں اور آئندہ وہ ویران نسلیں پیدا کریں گی۔ان میں معاشرے کی بدیاں نہ بھی پائی جائیں وہ بیچتے ایک خلالے کر اُٹھیں گے اور خلاؤں کو اگر آپ نے خوبیوں سے نہ بھرا ہو تو بعد میں بدیاں ان خلاؤں کو بھر دیا کرتی ہیں۔ایسے بچے محفوظ نہیں ہیں۔جہاں تک آپ کے گھر میں پہلے مان لیا کہ آپ نے ان کو کوئی برائی نہ دی۔آپ برائی اور ان کی راہ میں حائل رہیں لیکن اگر ٹھوس نیکیاں اور ٹھوس خوبیاں ان کو عطا نہ کیں تب بھی اُن کی آئندہ حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔پس