حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 79

کہ ان چند مثالوں سے آپ اس مضمون کو سمجھ گئی ہوں گی کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں واقعہ جنت یا جہنم ہو جاتی ہے میں نے بعض ماؤں کو بچوں کو ڈراتے ہوئے دیکھا ہے اور میں بڑی سختی سے اپنے گھر میں یہ بات قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ بچوں کو ڈرایا نہ کریں بسختی سے مراد یہ ہے کہ Firmness مضبوطی کے ساتھ مشدت کے ساتھ نہیں یا سزا دے کر نہیں کیونکہ مجھے یاد نہیں شاید ہی کبھی زندگی میں ایک دو مرتبہ کسی بچے کو سزا دی ہو ورنہ ہمیں اس بات کا قائل ہوں کہ بچے کے ساتھ اگر تمہارا اعتماد کا رشتہ قائم ہو جائے اور پیار کا رشتہ قائم ہو جائے تو تمھاری نظروں کے ہلکے سے تغیر میں بچہ اتنی سزا پا جاتا ہے کہ اُسے کسی اور سزا کی ضرورت نہیں رہتی تو جس حد تک مجھ سے ممکن ہے میں نے اپنے گھرمیں بھی اور با ہر اپنے دو سے عزیزوں کو بھی یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بچوں کو ڈرایا نہ کریں بچہ سوتا نہیں ہے یا کسی جگہ جانا چاہتا ہے تو مائیں کہ دیتی ہیں کہ بھوت آ جائے گا۔فلاں چیز تمہیں چھٹ جائے گی۔وقتی طور پر وہ اس بچے سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں اور ہمیشہ کے لئے خوف کا بھوت اُسے چٹا دیتی ہیں جو پھر کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔باہر نکل رہی ہیں۔لمبے عرصے کے لئے جانے کا ارادہ ہے لیکن جھوٹ بول دیتی ہیں کہ ہم ابھی آتے ہیں اور بچہ بیچارا انتظار میں بیٹھا رہ جاتا ہے۔ایسے بچے سے بڑے ہو کر بیچ کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔پس آپ اپنے گھر مں میں رنگ میں زندگی بسر کہ رہی ہوتی ہیں بچہ اس کی اصل تصویر کو دیکھتا ہے۔اس تصویر کو قبول نہیں کرتا جو آپ جلی عکس کے طور پر اس پر ڈالتی ہیں اور اس پہلو سے کوئی ماں کسی بچے کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ایک دن کا معاملہ ہو تو کوئی اور بات ہوئی۔دو دن کا قصہ ہو تو سمجھ میں آجائے۔یہ ساری زندگی کے معاملات ہیں۔ایک بچہ اپنے ماں باپ کی اصلیت کو ضرور سمجھ جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میاش کے دل میں آئندہ ان کا احترام پیدا ہوتا ہے یا احترام کی بجائے بدتمیزی کے رحجانات پیدا ہوتے ہیں۔پس وہ قومیں جن میں پہلی نسلوں اور دوسری نسلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اُن میں ضروری نہیں کہ اسی قسم کی غلطیاں ہوں کچھ نہ کچھ غلطیاں ضرور ہوتی ہیں جن کے نیتو میں