حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 76

14 قدامت پسند سمجھتا ہے اور وہ اپنے ماضی کے گہرے تعلق کی بناء پر ابھی تک مجبور ہیں کہ اپنے ماں باپ کے کچھ حقوق ادا کریں لیکن اس حد تک نہیں کہ وہ مستقلی ان کی رضا جوئی کی کوشش کرتے رہیں۔اگر پاؤں تلے جنت ہو تو انسان آخر وقت تک جنت کے حصول کے لئے جدو جہد اور کوشش کرتا رہتا ہے اور اپنی ماں کی آخری وقت کی دعائیں اور اپنے باپ کی رضا کی آواز سننا چاہتا ہے اسی سے اس کو تسکین ملتی ہے مگر ایسی کسی صورت کا مغرب میں تو تصور ہی نہیں رہا۔مشرق میں سبھی دن بدن یہ رشتے ٹوٹ رہے ہیں اور مجھے لیا اوقات بعضی احمدی مائیں بھی یہ لکھتی ہیں کہ ہماری اولاد کی نظریں بدل رہی ہیں ان میں وہ احترام وہ تعلق نہیں رہا جیسے غیر غیر ہو رہے ہوں ہم اس کا کا علاج کریں ، اس علاج کے مضمون سے تعلق میں آپ کو یہ بات سمجھانی چاہتا ہوں کہ بچپن ہی میں آپ کے پاس علاج ہوتا ہے۔خُدا نے یہ علاج آپ کو عطا فرما کا ہے۔اگایا نہ ہوتا تو ہرگز مرسول الله لا اله علی ولی الہ وسلم آپ سے متعلق یہ بات توقع نہ رکھتے کہ جنت آپ کے قدموں تلے ہے ضرور، چاہے آپ اسے استعمال کریں یا نہ کریں۔اپنی ذات میں مگن ہونے کا نقصان بات یہ ہے کہ ہر وہ ماں جو بچے کو صرف پیار ہی نہیں دیتی بلکہ شروع ہی سے اس کے اندر انصاف پیدا کرتی ہے اُس کے اندر توازن پیدا کرتی ہے وہ حقیقت میں مستقبل کے لئے ایک جنت پیدا کر رہی ہوتی ہے۔جو ماں اپنی اولاد کو صرف محبت دیتی ہے اور اس محبت کے نتیجہ میں وہ سمجھتی ہے کہ اس نے اُسے سب کچھ دے دیا وہ ایک غلط فہی میں مبتلا ہے۔ایسی محبتیں جو محض محبت کا رنگ رکھتی ہوں ان میں نظم وضبط کی کوئی رگ شامل نہ ہو جن میں مضبوط تقاضے نہ ہوں جن میں توازن کے مطالبے نہ ہوں۔ایسی محبتیں اولاد کے فائدے کی بجائے اُسے نقصان پہنچا دیتی ہیں لیکن اس سے بہت بڑھ کر ایک نقصان عورت کا اپنی ذات میں مگن ہونے کا نقصان ہے اور یہ وہ نقصان ہے جو نئے تقاضوں کے نتیجہ میں